
جنیوا: اقوام متحدہ کے ادارےانروا کے سربراہ فلپ لازارینی نے کہاہے کہ جنگ بندی کے تین ماہ گزرنے کے باوجود غزہ میں امدادی صورتحال تسلی بخش نہیں۔ عوام کی بنیادی ضروریات اب تک پوری نہیں ہو سکیں۔ فلپ لازارینی نے واضح کیا کہ اگرچہ خوراک کی کچھ مقدار پہنچی ہے مگر غیر غذائی امداد انتہائی محدود ہے۔ لازارینی کے مطابق لوگ اب بھی ملبے کے درمیان، غیر محفوظ اور ٹپکتے خیموں میں رہنے پر مجبور اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرد موسم نے دو سالہ تباہ کن جنگ سے نڈھال آبادی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے انروا کے مالی بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فروری 2024 سے امریکا نے فنڈنگ منجمد کر رکھی ہے۔ فلپ لازارینی نے بتایا کہ اسرائیلی قوانین کے باعث مقبوضہ مشرقی القدس میں آنروا کی بعض سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں۔


































