
رپورٹ: سید عدیل زیدی
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ریاستوں کے مابین تعلقات اپنے اپنے ملکی مفادات کی بنیاد پر ہوتے ہیں، تاہم پھر بھی بعض اوقات مملکتیں باہمی تعلقات کو اس قدر فروغ دینے میں کامیاب ہوجاتیں ہیں کہ وہ تعلقات نہ صرف سرکاری حکام کی سطح تک محدود رہتے ہیں بلکہ کئی سالوں پر محیط ہونے کی وجہ سے عوامی سطح تک منتقل ہوجاتے ہیں، اسی طرح کی ایک زندہ مثال پاک، چین دوستی کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ دونوں ممالک کی اس دوستی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سمندر سے زیادہ گہری، ہمالیہ سے زیادہ بلند، شہد سے زیادہ میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتوں نے ہر دور میں یہ ثابت بھی کیا، بعض ممالک کو یہ دوستی کسی صورت قبول نہیں، اگر بین الاقوامی سطح کی بات کی جائے تو امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک چین کی ترقی خوفزدہ ہیں جبکہ علاقائی سطح پر بھارت پاک، چین دوستی کو اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔
خطہ کے بدلتے حالات، خاص طور پر سی پیک کیوجہ سے بعض قوتیں وقتاً فوقتاً پاک، چین تعلقات کو کسی نہ کسی صورت غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جس کے نتیجے میں دہشتگردی سے ایک طویل عرصہ سے نبرد آزما پاکستان میں چینی مفادات کو پے در پے نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے، کبھی چینی انجینئیرز کو اغواء کیا گیا تو کبھی دونوں ممالک کے مشترکہ ترقیاتی منصوبوں کیخلاف تخریب کاری کی گئی، کبھی چینی شہریوں کو قتل کیا گیا تو کبھی دہشتگردی کے واقعات کے ذریعے اس دوستی میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ اس تمام تر صورتحال کو دونوں ممالک کی مقتدر قوتیں انتہائی باریک بینی سے دیکھتی آئی ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ دشمن ممالک اس تمام تر سازش کے پیچھے ہیں، تاہم پھر بھی ان واقعات کو دوستی میں آڑے نہیں آنے دیا گیا۔
گذشتہ دنوں (26 اپریل) کو پاک، چینی دوستی کو ایک مرتبہ پھر اس وقت نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی جب جامعہ کراچی میں ایک خودکش حملہ ہوا، اس حملہ میں جامعہ کراچی میں درس و تدریس سے وابستہ 3 چینی اساتذہ اور ایک پاکستانی شہری ڈرائیور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہلاک ہونے والے چینی شہریوں میں پروفیسر ہوانگ گیپنگ سمیت چینی اساتذہ ڈنگ میوپنگ اور چن سائی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے۔ دہشتگردی کے اس حملے میں پاکستانی ڈرائیور خالد جاں بحق ہوئے جبکہ چار ایک چینی شہری سمیت چار افراد زخمی بھی ہوئے۔ اس سانحہ کے فوری بعد دہشتگرد علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دھماکہ شاری بلوچ نامی خاتون نے کیا۔ واضح رہے کہ بی ایل اے کی جانب سے دہشتگردی کے واقعہ میں پہلی مرتبہ کسی خاتون کو استعمال کیا گیا، جبکہ پاکستان میں اس سے قبل بھی دہشتگردی کے چند واقعات میں خواتین کو استعمال کیا جاچکا ہے۔
یقنی طور پر یہ واقعہ سب سے پہلے پاکستان اور اسی طرح چین کیلئے انتہائی تکلیف دہ اور تشویشناک تھا، چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیئن ژاؤ کی جانب سے اس واقعہ کو دہشتگردی کا بڑا حملہ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت اور اس بارے میں شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔ چینی ترجمان کا کہنا تھا کہ چین ان بدقسمت ہلاک شدگان، زخمیوں اور ان کے خاندان والوں کے ساتھ گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سانحہ میں ہلاک ہونے والے چینی استاد کراچی یونیورسٹی اور چین کی سیچوان نارمل یونیورسٹی کے درمیان ایک معاہدے کے تحت چینی زبان کی تعلیم دینے کے لیے کراچی یونیورسٹی میں موجود تھے۔ سیچوان نارمل یونیورسٹی نے یہ منصوبہ چین کی حکومت کے منصوبے ون بیلٹ ون روڈ کے تحت دیا ہے۔ جس میں سیچوان نارمل یونیورسٹی نے پاکستان کے تمام بڑے شہروں کی یونیورسٹیوں میں کنفیوشس انسٹیٹیوٹ سنٹر قائم کیے ہیں۔
چین کی جانب سے اس واقعہ پر تشویش کیساتھ ساتھ چینی میڈیا میں بی ایل اے کیخلاف ازخود کارروائیوں کی باتیں بھی سنی گئیں، واضح رہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کے حوالے سے پاکستان کے سیکورٹی اداروں اور حکومت کا یہ واضح موقف ہے کہ اس دہشتگرد اور علیحدگی پسند تنظیم کے کارندوں کو بھارت کی جانب سے مالی تعاون اور تربیت دی جاتی ہے، اگر حالات کا جائزہ لیا جائے تو اس میں شک نہیں کہ دہشتگردی کے اس واقعہ کا سب سے زیادہ نقصان پاک، چین دوستی اور سب سے زیادہ فائدہ ہندوستان اور چین مخالف عالمی طاقتوں کو ہوسکتا ہے۔ تاہم دونوں ممالک کی حکومتوں اور مقتدر حلقوں کو حالات کی سنگینی کا جائزہ لیتے ہوئے دوستی اور ترقی کے عمل میں آگے بڑھانا ہوگا، اس واقعہ کی اعلیٰ تحقیقات ہونی چاہئیں اور ملوث قوتوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ واقعہ کسی صورت بھی کسی مقامی گروہ یا سوچ کی کارروائی نہیں بلکہ ’’بڑی‘‘ منصوبہ بندی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔


































