Thu Oct 15, 2026

ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ

روزانہ کی خبریں

رشتہ داروں سے نیکی کرنا

رشتہ داروں سے مراد ماں باپ کے حسبی اور نسبی رشتہ دار مراد ہیں۔
انسان کا چچا، ماموں، پھوپھی، خالہ، اولاد، داماد ،بہو اور اولاد کی اولاد رشتہ دار کہلاتے ہیں۔ بھائی ، بہن،بھتیجے، بھانجے، داماد اور بہوویں اور ہر وہ شخص جو نسبی یا سببی رشتہ رکھتا ہو انسان کے رشتہ دار حساب ہوتے ہیں۔
ان کے ساتھ صلہ رحم اور نیکی یہ ہے کہ ان سے ملاقات کرے، ان کی مشکلات کو دور کرے اور ان کی حاجتوں کو پورا کرے۔
رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحم اور نیکی کرنا خداوندعالم کا حکم اور ایک اخلاقی و شرعی ذمہ داری ہے، جس کا اجر ثواب عظیم اور اس کا ترک کرنا عذاب الیم کا باعث ہے۔
قرآن مجید نے پیمان شکنی، قطع تعلق اور زمین پر فتنہ و فساد پھیلانے کو خسارہ اور گھاٹااٹھانے والوں میں شمار کیا ہے:
(الَّذِینَ یَنقُضُونَ عَہْدَ اﷲِ مِنْ بَعْدِ مِیثَاقِہِ وَیَقْطَعُونَ مَا َمَرَ اﷲُ بِہِ َنْ یُوصَلَ وَیُفْسِدُونَ فِی الَْرْضِ ُوْلَئِکَ ہُمْ الْخَاسِرُونَ).(١)
‘جو خدا کے ساتھ مضبوط عہد کرنے کے بعد بھی اسے توڑ دیتے ہیں اور جسے خدا نے جوڑ نے کا حکم دیا ہے اسے کاٹ دیتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو حقیقتاً خسارہ والے ہیں’۔
رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا ایک غیر شرعی عمل ہے اگرچہ انھوں نے کسی کو رنجیدہ خاطر بھی کیا ہو۔
رشتہ داروں کے یہاں آمد و رفت،ایک خداپسند عمل اور اخلاق حسنہ کی نشانی ہے۔
اگرچہ انسان کے بعض رشتہ دار دین و دینداری سے دور ہوں اور حق و حقیقت کے مخالف ہوں لیکن اگر ان کی ہدایت کی امید ہو تو ان کی نجات کے لئے قدم اٹھانا چاہئے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکرکے لئے ان کے یہاں رفت و آمد کرنا چاہئے۔
صلہ رحم کے سلسلہ میں بہت سی اہم روایات رسول خدا ۖ اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے بیان ہوئیں ہیں جن کے حکیمانہ مطالب پر توجہ کرنا ہر مومن پر لازم و واجب ہے۔
حضرت رسول خدا ۖ سے بہت سی اہم روایات صلہ رحم کے سلسلہ میں نقل ہوئی ہیں جو واقعاً بہت ہی اہم ہیں:
‘اِنَّ اَعْجَلَ الْخَیْرِ ثَواباً صِلَةُ الرَّحِمِ’۔(۲)
‘بے شک ثواب کی طرف تیزی سے جانے والا کار خیر صلہ رحم ہے’۔

‘صِلَةُ الرَّحِمِ تُھَوِّنُ الْحِسابَ، وَتَقی میتَةَ السُّوئِ’۔(۳)
‘صلہ رحم کے ذریعہ روز قیامت میں انسان کا حساب آسان ہوجاتا ہے، اور بُری موت سے محفوظ رہتا ہے’۔
‘صِلُوا اَرْحَامَکُمْ فِی الدُّنْیا وَلَوْ بِسَلامٍ’۔(۴)
‘دنیا میں صلہ رحم کی رعایت کرو اگرچہ ایک سلام ہی کے ذریعہ کیوں نہ ہو’۔
‘صِلْ مَنْ قَطَعَکَ ،وَاَحْسِنْ اِلیٰ مَنْ اَسائَ اِلَیْکَ ،وَقُلِ الْحَقَّ وَلَوْعَلیٰ نَفْسِکَ’۔(۵)
‘جن رشتہ داروں نے تجھ سے قطع تعلق کیا ہے اس کے ساتھ صلہ رحم کرو، اور جس نے تمہارے ساتھ بدی کی ہے اس کے ساتھ نیکی کرو، نیز ہمیشہ سچ بات کہو چاہے تمہارے نقصان میں تمام ہو’۔
‘اِنَّ الرَّجُلَ لَیَصِلُ رَحِمَہُ وَقَدْ بَقِیَ مِنْ عُمُرِہِ ثَلاثُ سِنینَ فَیُصَیِّرُھَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ثَلاثینَ سَنَةً، وَیَقْطَعُھا وَقَدْ بَقِیَ مِنْ عُمُرِہِ ثَلاثُونَ سَنَةً فَیُصَیِّرُھَا اللّٰہُ ثَلاثَ سِنینَ (۶)ثُمَّ تَلا:(یَمْحُوا اﷲُ مَا یَشَائُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَہُ ُمُّ الْکِتَابِ).(۷)
‘بے شک جب انسان صلہ رحم کرتا ہے تو اگرچہ اس کی عمر کے تین سال باقی رہ گئے ہوں تو خداوندعالم اس کی عمر تیس سال بڑھادیتا ہے، اور جو شخص رشتہ داروں سے قطع تعلق کرتا ہے اگرچہ اس کی عمر تیس سال باقی رہ گئی ہو توبھی خداوندعالم اس کی عمر تین سال کردیتا ہے، اس کے بعد ]امام علیہ السلام نے[ مذکورہ بالا آیت کی تلاوت کی: (خداوندعالم جس چیز کو چاہے مٹادے اور جس چیز کو چاہے لکھ دے)’۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا:
‘وَأَکْرِمْ عَشِیرَتَکَ فَاِنَّھُمْ جَناحُکَ الَّذِی بِہِ تطیر،وَاَصْلُکَ الَّذِی اِلَیْہِ تَصیرُ ،وَیَدُکَ الَّذِی بِھا تَصولُ’۔(۸)
‘اپنے رشتہ داروں کے ساتھ لطف و کرم کرو، وہ تمہارے بال و پر ہیں جن کے ذریعہ تم پرواز کرسکتے ہو، اور وہی تمہاری اصل ہیں کہ ان کی طرف پلٹ جانا ہے، نیز تمہاری طاقت ہیں کہ انھیں کے ذریعہ اپنے دشمنوں پر حملہ کرسکتے ہو’۔
حضرت امام علی نقی علیہ السلام فرماتے ہیں: جناب موسیٰ علیہ السلام نے خداوندعالم کی بارگاہ میں عرض کیا:
‘فَما جَزائُ مَنْ وَصَلَ رَحِمَہُ قَالَ:یا مُوسیٰ اُنْسِی ئُ لَہُ اَجَلَہُ ، وَاُھَوِّنَ عَلَیْہِ سَکَراتِ الْمَوْتِ’۔(۹)
‘خداوندا! صلہ رحم کرنے والے کی جزا کیا ہے؟ جواب آیا: اس کی موت دیر سے بھیجوں گا، اور اس کے لئے موت کی سختیوں کو آسان کردوں گا’۔
یتیموں پر احسان
قرآن مجید نے تقریباً ١٨ مقامات پر یتیم سے محبت اور اس کے مال کی حفاظت اور اس کی تربیت و ترقی کی سفارش کی ہے۔
(… وَیَسَْلُونَکَ عَنْ الْیَتَامَی قُلْ ِصْلاَح لَہُمْ خَیْر وَِنْ تُخَالِطُوہُمْ فَِخْوَانُکُمْ وَاﷲُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنْ الْمُصْلِحِ وَلَوْ شَائَ اﷲُ لََعْنَتَکُمْ ِنَّ اﷲَ عَزِیز حَکِیم).(۱۰)
‘اور یہ لوگ تم سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو کہہ دوکہ ان کے حال کی اصلاح بہترین بات ہے اور اگر ان سے مل جل کر رہو تو یہ بھی تمہارے بھائی ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ مصلح کون ہے اور مفسد کون ہے اگر وہ چاہتا تو تمہیں مصیبت میں ڈال دیتا لیکن وہ صاحب عزت بھی ہے اور صاحب حکمت بھی ہے’۔
(وَآتُوا الْیَتَامَی َمْوَالَہُمْ وَلاَتَتَبَدَّلُوا الْخَبِیثَ بِالطَّیِّبِ وَلاَتَْکُلُوا َمْوَالَہُمْ ِلَی َمْوَالِکُمْ ِنَّہُ کَانَ حُوبًا کَبِیرًا).(١۱)
‘اور یتیموں کو ان کامال دیدو اور ان کے مال کو اپنے مال سے نہ بدلو اور ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاجاؤ کہ یہ گناہ کبیرہ ہے’۔
(ِنَّ الَّذِینَ یَْکُلُونَ َمْوَالَ الْیَتَامَی ظُلْمًا ِنَّمَا یَْکُلُونَ فِی بُطُونِہِمْ نَارًا وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیرًا).(۱۲)

‘جو لوگ ظالمانہ انداز سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں وہ درحقیقت اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب واصل جہنم ہوں گے’۔
(…وََنْ تَقُومُوا لِلْیَتَامَی بِالْقِسْطِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَیْرٍ فَِنَّ اﷲَ کَانَ بِہِ عَلِیمًا).(۱۳)
‘…اور ان کمزور بچوں کے بارے میں انصاف کے ساتھ قیام کرو اور جو بھی تم کا ر خیر کروگے خدا س کا بخوبی جاننے والا ہے’۔
(وَلاَتَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ ِلاَّ بِالَّتِی ہِیَ َحْسَنُ حَتَّی یَبْلُغَ َشُدَّہُ…).(۱۴)
اور خبردار مال یتیم کے قریب بھی نہ جانا مگر اس طریقہ سے جو بہترین طریقہ ہو یہاں تک کہ وہ توانائی کی عمر تک پہنچ جائیں…’۔
حضرت رسول خدا ۖ سے فرماتے ہیں:
‘مَنْ قَبَضَ یَتیماً مِنْ بَیْنِ الْمُسْلِمینَ اِلیٰ طَعامِہِ وَشَرابِہِ ،اَدْخَلَہُ اللّٰہُ الْجَنَّةَ اَلْبَتَّةَ اِلا اَنْ یَعْمَلَ ذَنْباً لَا یَغْفَرُ’۔(۱۵)
‘جو شخص کسی مسلمان یتیم بچہ کی پرورش اور خرچ کی ذمہ داری لے لے تو یقیناً خداوندعالم اس پر جنت واجب کردیتا ہے، مگر یہ کہ غیر قابل بخشش گناہ کا مرتکب ہوجائے’۔
نیز آنحضرت ۖ کا فرمان ہے:
‘اِنَّ فِی الْجَنَّةِ داراً یُقالُ لَھا دارُ الْفَرَحِ ،لَا یدْخُلُھا اِلاَّ مَنْ فَرَّحَ یَتامَی الْمُؤمِنینَ’۔(۱۶)
‘بے شک جنت میں ایک مکان ہے جس کو ‘دار الفرح’ ]یعنی خوشیوں کا گھر[ کہا جاتا ہے، اس میں صرف وہی مومن داخل ہوسکتے ہیں جنھوں نے یتیم مومن بچوں کو خوشحال کیا ہو’۔
‘اَتَی النَّبِیَ رَجُل یَشْکُو قَسْوَةَ قَلْبِہِ ،قالَ:اَتُحِبُّ اَنْ یَلینَ قَلْبُکَ وَتُدْرِکَ حاجَتَکَ؟اِرْحَمِ الْیَتیمَ ، وَامْسَحْ رَأْسَہُ،وَاَطْعِمْہُ مِنْ طَعامِکَ،یَلِنْ قَلْبُکَ ،وَتُدْرِکَ حاجَتَکَ’۔(۱۷)
‘ایک شخص پیغمبر اکرم ۖ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اپنی سنگدلی کی شکایت کی، آنحضرت ۖ نے فرمایا: اگرتم چاہتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہوجائے، اور اپنی مراد حاصل کرلو؟ تم یتیم بچوں پر مہربانی کرو، ان کے سرپر دست شفقت پھیرو، ان کو کھانا کھلائو، تو تمہارا دل نرم ہوجائے گااور تمہیں تمہاری مرادیں مل جائیں گی’۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
‘مامِنْ مُؤمِنٍ وَلَا مُؤمِنَةٍ یَضَعُ یَدَہُ عَلیٰ رَأْسِ یَتیمٍ تَرَحُّماً لَہُ اِلّا کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ بِکُلِّ شَعْرَةٍ مَرَّتْ یَدُہُ عَلَیْھَا حَسَنَةً’۔(۱۸)
‘جب کوئی مومن کسی یتیم کے سر پر دست نوازش پھیرتا ہے تو خداوندعالم اس کے ہاتھ کے نیچے گزرنے والے ہر بال کے بدلہ نیکی اور حسنہ لکھ دیتا ہے’۔

مزید پڑھیے

Most Popular