Sat Oct 10, 2026

امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت

روزانہ کی خبریں

بچوں کی حکم عدولی

میرا بچہ میری کوئی بات نہیں سنتا اور میری کوئی بات نہیں مانتا۔ میرا سوال ہے کہ میں کیسے اپنے بچے کے لیے رول ماڈل بنوں؟*

جواب: والدین کی ایک پریشانی یہ بھی ہے کہ ان کا بچہ دوسرے افراد مثلا دوست وغیرہ کو اپنے لیے نمونہ عمل قرار دیتے ہوئے اپنے والدین کی نافرمانی کرتا اور بد تمیزی سے پیش آتا ہے۔

راہ حل

نوجوانی کے دور کی خصوصیات
نوجوانی کے دور کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:
آزادی (استقلال طلبی)
خود محوری

چند نکات

اولاد کے معاملے میں ہمیشہ تنقید نہ کرتے رہیں۔
اس عمر میں بچے کے دوست والدین کے رقیب بن کر سامنے آتے ہیں کیونکہ دوست کبھی بھی ایک دوسرے میں کیڑے نہیں نکالتے یعنی زیادہ تنقید نہیں کرتے اس لیے ان کو دوست عزیز ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں بچے ان کی طرف زیادہ رغبت رکھتے ہیں۔

آپ بچے کو ایسا ماحول فراہم کریں کہ آپ کی موجودگی اس کے لیے آرام و سکون کا باعث بنے یعنی آپ سے نہ ڈرے اور اطمینان کے ساتھ دل کی بات کر سکے۔

جب آپ کا بچہ آپ کے پاس آئے تو اسے توجہ دیں اور اس کی گفتگو کو غور سے سنیں۔

بچے کے ساتھ دلی تعلق قائم کریں اور ایسے مذاق سے گریز کریں جس میں وہ اپنی تحقیر محسوس کرے۔

اس کے لیے اچھے ہم عمر دوست تلاش کریں۔
دوست کی مثال عطر کی دکان جیسی ہے، جب آپ اس میں داخل ہوں اور کوئی چیز نہ بھی خریدیں تو بھی اس کی خوشبو آپ تک پہنچتی ہے۔ لہذا  دوست کا آپ کی اولاد کے رفتار و کردار میں بہت اہم کردار ہے۔ اس اہم کام کے لیے آپ مذہبی قابل اعتماد محافل جیسے مساجد میں ہونے والے پروگراموں سے مدد لے سکتے ہیں۔

ان کی پسندیدہ چیزوں کے مقابلے میں دوسرے کاموں کو نہ لائیں مثلا ٹی وی پر اس کے پسندیدہ پروگرام کے وقت اسے یہ نہ کہیں کہ جاؤ باہر سے روٹی خرید لاؤ۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular