
ڈھاکا: بنگلادیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں طالب علم رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل پر ہنگامے پھوٹ پڑے۔ شریف عثمان ہادی کو نقاب پوش حملہ آوروں نے گزشتہ ہفتے ڈھاکہ کی ایک مسجد سے نکلتے ہوئے گولی مار دی تھی اور وہ گذشتہ روز سنگاپور میں علاج کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
ہادی کی موت کی خبر کے فوراً بعد سینکڑوں مشتعل مظاہرین ڈھاکہ اور ملک کے دیگر حصوں کی سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے ڈھاکا کے پرتھم علی اور ڈیلی اسٹار اخبارات کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی، ایک عمارت کو جزوی طور پر آگ لگا دی گئی۔ دیگر شہروں میں بھی شریف ہادی کے قتل پر احتجاج کیا۔ متاثرہ علاقوں میں فوجیوں کو تعینات کر دیا گیا ۔
شریف ہادی انڈیا اور جلاوطن رہنما حسینہ واجد کے سخت نقاد تھے۔ پولیس نے شریف ہادی پر حملہ کے الزام میں کئی افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ حملہ آوروں کے بارے میں کہا جارہاہے کہ وہ انڈیا فرار ہوگئے ہیں۔


































