
ماسکو : روس اور یوکرین جنگ کے باوجود روسی کرنسی روبل امریکی ڈالر اور یورو دونوں کے مقابلے دو سال سے زیادہ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ملکی کرنسی کی قدر میں اضافے کے لیے روسی صدر پیوٹن انتہائی سمجھداری سے کھیل رہے ہیں۔ روبل کی قدر میں اضافہ گزشتہ چند ہفتوں سے جاری ہے اور ایسا اس وجہ سے ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے مخصوص مغربی غیر ملکی کمپنیوں کو اس بات کا پابند بنا دیا ہے کہ وہ روسی گیس اور تیل کی ادائیگی صرف روبل میں کریں گی۔ یوکرین جنگ کے بعد روس پر مالی پابندیاں عائد کی گئی تھیں جس کے نتیجے میں روبل کی قدر انتہائی کم ہو گئی تھی۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے روسی صدر نے اعلان کیا تھا کہ مغربی ممالک کو گیس اور تیل صرف روبل ادا کرنے پر ہی فروخت کیے جائیں گے۔


































