
تل ابیب: اسرائیلی حکومت لاکھوں ڈالر خرچ کرکے بھی امریکی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے میں ناکام رہی۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز کی تحقیق کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل نے بیرونِ ملک اپنی شبیہ بہتر بنانے کے لیے تقریباً 10 کروڑ ڈالر مختص کیے۔ اس مہم کا مقصد غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے عالمی تاثر کو متاثر کرنا تھا۔ دستاویزات کے مطابق کروڑوں ڈالر گوگل، یوٹیوب، ایکس اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر اشتہارات کے لیے خرچ کیے گئے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مہم میں ڈیجیٹل اشتہارات، تعلقاتِ عامہ کی کمپنیاں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور مختلف تنظیمیں شامل تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ پیغامات، ویب سائٹس اور آن لائن مواد کے ذریعے امریکی رائے عامہ اور چیٹ بوٹس سے حاصل ہونے والی معلومات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ تحقیق کے مطابق اس غیر معمولی سرمایہ کاری کے باوجود امریکی عوام، خصوصاً نوجوان طبقے میں اسرائیل کی مقبولیت میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔


































