
کراچی: تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام نے ملک میں شریعت کے فوری نفاذ اور غیر اسلامی قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ کراچی میں منعقدہ علمی و مشاورتی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمن، مفتی منیب الرحمن، علامہ ابتسام الہی ظہیر، قاری حنیف جالندھری۔ علامہ سید ریاض حسین نجفی اور دیگر علما نے واضح کیا کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون قابلِ قبول نہیں۔
علمائے کرام نے مطالبہ کیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات فوری طور پر پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں اور وفاقی شرعی عدالت کو مؤثر بنایا جائے۔ علما نے کہا کہ سودی نظام کے خاتمے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں اور بین الاقوامی معاہدات آئینِ پاکستان سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔ اجلاس میں ستائیسویں آئینی ترمیم کو قرآن و سنت سے متصادم قرار دیتے ہوئےاسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ صدر اور فیلڈ مارشل کوتاحیات استثنیٰ دینااسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ علمائے کرام نے چائلڈ میرج ایکٹ اور ٹرانس جینڈر ایکٹ کو شریعت کے منافی قرار دے کر فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا، جبکہ نکاح پر عمر کی پابندی کو غیر شرعی کہا۔
اجلاس میں فلسطین کی آزادی کی مکمل حمایت اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ پاکستان فلسطین کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہ بنے۔


































