
نئی دہلی: مودی سرکار نے دہلی وقف بورڈ کی کھربوں روپے کی 123 املاک پر قبضے کا فیصلہ کرلیا۔ دہلی وقف بورڈ کی جن املاک پر قبضے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں مساجد، درگاہیں اور قبرستان شامل ہیں۔بوزارت برائے رہائش و شہری امور نے بورڈ چیئرمین کو خط لکھ کر املاک تحویل میں لینے سے متعلق فیصلے سے آگاہ کیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ املاک کو ڈی نوٹی فائیڈ کرنے سے یہ پراپرٹی بورڈ کے پاس نہیں رہے گی۔ املاک پر چسپاں کئے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے کہنے پر دورکنی کمیٹی بنائی گئی تھی جس کے اجلاس میں بورڈ کا کوئی رکن پہنچا اور نہ ہی کسی قسم کا اعتراض داخل کیا۔ ان حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ بورڈ کی ان املاک میں کوئی حصہ داری نہیں ۔ اب املاک کو تحویل میں لینے کی کارروائی شروع کی جارہی ہے۔ بورڈ کے چیئرمین اور ایم ایل اے امانت اللہ خان نے حکومت کے فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کو وقف املاک پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔


































