
تہران، بغداد، واشنگٹن: ایران پر امریکی اسرائیلی جارحیت سترہویں روز میں داخل ہو گئی، تہران میں کئی مقامات پر دھماکے ہوئے، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے آپریشن وعدہ صادق کی 57 ویں لہر نے اسرائیل میں تباہی مچا دی، عراق میں امریکی سفارتخانے پر پھر راکٹ و ڈرون حملے کیے گئے، اماراتی گیس فیلڈ پر ڈرون حملہ ، ایران میں شہادتیں 1500 سے تجاوز کر گئیں، لبنان میں 900 کے قریب شہری شہید ہو چکے ہیں۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے نیٹو ارکان اور دوسری طاقتوں سے کی گئی اپیل رائیگاں گئی، جاپان، جنوبی کوریا، فرانس، آسٹریلیا، جرمنی اور برطانیہ کے بعد یورپی یونین نے بھی اپنا جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شکوے شکایات پر اتر آئے۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے دو ٹوک کہا ہے کہ آبنائے ہرمز دشمنوں کے لیے بند رہے گی، امریکا کے ساتھ بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں نہ جنگ بندی کے لیے کوئی بات کی ہے، ایرانی سکیورٹی چیف علی لاریجانی نے مسلم ممالک کے نام کھلا خط لکھا ہے اور امریکی اسرائیلی جارحیت کے خلاف ساتھ نہ دینے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے بتایا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کا ایرانی شہر اراک پر حملہ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد شہید ہو گئے، شہداء میں تین دن کا نومولود بچہ اور ایک دو سال کی بچی بھی شامل ہے۔ حملہ گھر پر کیا گیا جس میں بچوں کی والدہ اور دادی بھی جان سے گئیں، 28 فروری سے جاری حملوں میں اب تک 1444 افراد شہید، 18 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیل کے لبنان پر حملوں کا سلسلہ تھم نہ سکا
جنوبی بیروت میں اسرائیل نے شدید فضائی حملے کیے، اسرائیلی حملوں کے بعد دھوئیں کے گہرے بادل فضا میں بلند ہوئے، کئی افراد شہید اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیل کی زمینی کارروائی شروع ہو گئی، حزب اللہ کی جانب سے شدید مزاحمت کی جا رہی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے آپریشن وعدہ صادق کی 57 ویں لہر نے اسرائیل میں تباہی مچا دی، متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، تل ابیب میں کئی عمارتیں اور گاڑیاں تباہ ہوگئیں، درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ بیت شمیش پر بھی میزائل داغے گئے، اسرائیل میں ہلاک فوجیوں اور شہریوں کی تعداد پندرہ ہوگئی، جنگ کے آغاز سے اب تک تین ہزار تین سو پچاس فوجی اور شہری زخمی ہونے کی تصدیق کر دی گئی، ہلاکتوں کے معاملے پر اسرائیلی حکام خاموش ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بیان میں کہا ہے کہ حملوں میں مقبوضہ علاقوں کے مرکزی مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں کمانڈ، کنٹرول مراکز اور میزائل دفاعی مواصلاتی نظام شامل تھے اس مقصد کے لیے خیبر شکن، عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے۔
آئی آر جی سی کے مطابق اسی دوران قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر بھی حملہ کیا گیا جہاں امریکی افواج تعینات ہیں، اس کارروائی میں ذوالفقار اور قیام درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ساتھ حملہ آور ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔
بغداد میں امریکی سفارتخانہ پر پھر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔ عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حملوں کے آغاز کے بعد سے یہ سب سے شدید حملہ تھا۔ سفارتخانے نے تقریباً چھ گھنٹے قبل عراق میں موجود امریکی شہریوں کے لیے ایک نیا سکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا، جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ ایران سے منسلک ملیشیا بار بار بغداد کے مرکزی انٹرنیشنل زون پر حملے کر رہی ہیں۔


































