
کابل: افغانستان کی طالبان حکومت نے امریکا کے ساتھ مذاکرات یا تعاون سے انکار کردیا۔ طالبان وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد نے کہاکہ ہم سے جو کہا گیا تھا اس پر عمل کرنے کے بعد دنیا کو چاہیے کہ اب طالبان کو تسلیم کرے۔ انہوں نے افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرایا اور کہاکہ ہم نے امریکیوں کے ساتھ صرف دو باتوں پر اتفاق کیا تھا۔ افغانستان سے امریکی افواج کا مکمل انخلا ہوگا اور افغان سرزمین کو ان کے خلاف استعمال نہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ طالبان افغانستان کے اندر سے کسی کو بھی دھمکیاں دینے کی اجازت نہیں دیں گے۔ افغانستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحدیں ہیں اور ہم ایران کے ساتھ یا اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے عناصر کی ہمارے مشیر کے طور پر موجودگی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹیں غلط ہیں۔ داعش امت مسلمہ کے لیے ایک فتنہ ہے۔ ہم نے افغانستان میں داعش خراسان کو سخت ضربیں لگائی ہیں۔ انہوں نے کابل میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو نشانہ بنانے میں طالبان کے ملوث ہونے کی تردید کی اور کہا کہ ہم نے بغیر مقدمہ چلائے کسی کو قتل نہیں کیا۔ لیکن بعض یہ لوگ ایسے تھے جو تصادم کے دوران مارے گئے۔


































