Fri Oct 16, 2026

ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف

روزانہ کی خبریں

متنازعہ یکساں نصاب، ایم ڈبلیو ایم کی آگاہی مہم، وفاقی وزیر شیریں مزاری سے ملاقات، تحفظات پر مبنی یاداشت پیش

اسلام آباد: مجلس وحدت مسلمین کےمرکزی رہنماؤں سید ناصر عباس شیرازی، کنوئنیر نصاب کمیٹی علامہ مقصود علی ڈومکی اور دیگر رہنماؤں نے وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری سے ملاقات کی اور انہیں یکساں نصاب تعلیم کے متنازعہ نکات سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید ناصر شیرازی نے کہا کہ قوم پرامید تھی کہ یکساں نصاب کے ذریعے معیار تعلیم کو بلند کیا جائے گا لیکن معیار پر توجہ دینے کی بجائے ان اختلافی امورکو اچھالنے کی کوشش کی گئی جو مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہوں گے۔ سید اسد عباس نقوی نے کہا کہ نصاب کی تشکیل میں پاکستان میں بسنے والے کروڑوں اھل تشیع کے حقوق و عقائد کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ جس پر ملت تشیع کو شدید ترین تحفظات ہیں۔ہمیں ایسے متفق علیہ نصاب کی ضرورت ہے جس میں تمام مکاتب فکر کے بنیادی عقائد کا احترام ہو۔ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ وزارت مذہبی امورنے قومی اسمبلی کی ایک قرارداد کو بنیاد بنا کرعجلت میں مسنون درود شریف کو بدل کر ایک ایسی عبارت کا اضافہ کیا گیا ہے جس کا کسی بھی مستند شیعہ سنی کتاب میں ذکر نہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر سے مطالبہ کیا کہ یکساں نصاب کی آڑ میں ہمارے بنیادی انسانی حقوق کو غصب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس پر آپ اپنا کردار کریں۔ وفد نے وفاقی وزیر کو یکساں نصاب کے حوالے سے تحریری شکل میں اپنے مطالبات بھی پیش کیے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ اس مسئلے کی حساسیت سے آگاہ ہیں اور اس کے حل کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گی۔ اور وزیر تعلیم اور وزیر اعظم سے اس موضوع پر بات کریں گی۔

مزید پڑھیے

Most Popular