
ریاض : خطے میں سیاسی تبدیلیوں کے باعث اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی کی کوششوں میں تعطل آگیا۔اسرائیلی روزنامہ مارِیو کے مطابق تل ابیب اور ریاض کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی بات چیت تقریباً رک گئی ہے۔ اسرائیل میں یہ خیال بڑھ رہا ہے کہ مذاکرات کی دوبارہ شروعات میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ اخبار کے مطابق تعطل کی بڑی وجہ سعودی عرب اور عرب امارات کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات ہیں۔ ابوظہبی خود کو خطے کی آزاد طاقت کے طور پر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ اخبار نے لکھا کہ اسرائیل متحدہ عرب امارات کے صومالی لینڈ کے ساتھ بڑھتے تعلقات کو خطے کی سیکیورٹی کے منظرنامے کو اپنے مطابق تشکیل دینے کی اماراتی خواہشات کے ثبوت کے طور پر دیکھ رہا ہے، جس میں اسرائیل کو اس حکمت عملی میں ایک کلیدی اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر رکھا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ سعودی عرب فلسطینی ریاست کے قیام میں پیش رفت کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے انکار کرتا رہا ہے، جو سعودی موقف کی طویل مدتی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔


































