شیعہ رہنماو ¿ں اور تنظیموں کے زیارت ٹیکس، انفرادی ویزے پر پابندی، ائیرپورٹ پر شو آف منی ، 500ڈالر کی شرط اور بیمار وں پر پابندی پر تحفظات
شیعہ زعما اور عراق، ایران، شام کی حکومتوں کیساتھ رابطے میں ہیں، ان سے مل کر فائنل زیارت پالیسی کا اعلان کیا جائے گا، وزیر مذہبی امور کی یقین دہانی
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) شیعہ تنظیموں اور علمائے کرام کے تحفظات کے بعد وفاقی کابینہ نے زائرین مینجمنٹ پالیسی پر نظرثانی کیلئے زیات پالیسی دوبارہ وزارت مذہبی امور کوواپس بھیج دی،وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے واضح کیا ہے کہ زیارت پالیسی ملت جعفریہ کو اعتماد میں لینے کے بعد بنائی جائے گی، تفصیلات کے مطابق وزارت مذہبی امور نے زیارت مینجمنٹ پالیسی کا مسودہ تیار کرلیا ہے ،اس پالیسی کے تحت وزارت مذہبی امور سے سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد لائسنس حاصل کرنے والے زائرین گروپ آرگنائزر اور ٹور آپریٹر ہی زائرین کو ایران، عراق اور شام لے جاسکیں گے، زائرین انفرادی طور پر سفارتخانے سے براہ راست ویزہ حاصل نہیں کرسکیں گے، تفتان، نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ میں سعودی عرب طرز پر پاکستان ہاو ¿س قائم کئے جائیں گے، کربلا میں ڈائریکٹوریٹ جنرل، جبکہ مشہد مقدس اور کوئٹہ میں ڈائریکٹوریٹس قائم کئے جائینگے، سندھ کے زائرین مند ریڈنگ اور گبد کراسنگ پوائنٹس کے ذریعے ایران داخل ہوسکیں گے، زائرین کیلئے فیری سروس بھی شروع کی جائے گی ،وزارت مذہبی امور زائرین محافظ فنڈ بھی قائم کرے گی، جس کیلئے 500روپے فی زائر وصول کیے جائیں گے،زائر کی وفات پر لواحقین کو 5 لاکھ روپے، حادثے کے دوران جزوی معذوری پر ڈیڑھ لاکھ اور مکمل معذوری پر ڈھائی لاکھ روپے، جبکہ ایمرجنسی اور بیماری کی صورت میں 3 لاکھ روپے ادا کئے جائینگے ، پاکستان کے تمام ایئر پورٹس سے ایران، عراق اور شام کے لیے فلائٹس شروع کی جائیں گی، سفر پر روانگی سے قبل زائرین کو شناختی لاکٹ یا بریسلٹ جاری کیے جائیں گے، دوبارہ زیارت کیلئے جانے والوں سے 10ہزار روپے اضافی فیس وصولی کی شرط ختم کر دی گئی ہے، رجسٹرڈ زائرین گروپ آرگنائزر سے 5 فیصد پرفارمنس گارنٹی وصول کی جائے گی،ہر زائر کو اخراجات کیلئے 500 ڈالر رکھنا لازمی ہوگا، زیارت پالیسی پر اہل تشیع رہنماو ¿ں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اُسے مسترد کردیا تھا ،پالیسی میں زیارت ٹیکس، انفرادی ویزے پر پابندی، ائیرپورٹ پر شو آف منی ،ہرزائر کیلئے 500ڈالر کی شرط اور بیمار اور ذہنی مریضوں کے جانے پر پابندی سمیت کئی شقوں پر تحفظات کا اظہار کیا گیاتھااور کہا تھا کہ اگر یہ پالیسی واپس نہ لی گئی تو احتجاج بھی کریں گے،حکومت زائرین کو سہولیات فراہم کرنے کی پالیسی بنائے، شیعہ تنظیموں اور علمائے کرام کے تحفظات پر بات کرتے ہوئے وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے واضح کیا ہے کہ پالیسی منظوری کیلئے کابینہ میں بھیجی گئی تھی، جسے اعتراضات کے بعد نظرثانی کیلئے واپس بھیجا گیا ہے ہم شیعہ زعما اور عراق، ایران، شام کی حکومتوں کیساتھ رابطے میں ہیں، ان سے مل کر فائنل زیارت پالیسی کا اعلان کیا جائے گا،پالیسی کا بنیادی مقصد زیارات پر جانے والوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنا ہے، جن میں تحفظ یقینی بنانا سر فہرست ہو گا۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- زیارت پالیسی پر تحفظات، وفاقی کابینہ کا نظر ثانی کا…
زیارت پالیسی پر تحفظات، وفاقی کابینہ کا نظر ثانی کا حکم
-
Ilyas - جولائی 9, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 9
- 0 minute read


































