Fri Oct 16, 2026

ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف

روزانہ کی خبریں

پاکستانی فورسز اور افغان طالبان میں جھڑپیں، چمن سرحد آمدروفت کے لیے بند

چمن : پاکستانی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان چمن سرحد پر جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا گیا۔ دو طرفہ فائرنگ سے افغانستان کی حدود میں تین افراد ہلاک اور طالبان جنگجوؤں سمیت دو درجن سے زائد افرادزخمی ہوئے ہیں۔ کشیدگی کے باعث سرحد کو ہر قسم کی آمدروفت کے لیے بند کردیا گیا ہے, پاکستانی فوج نے جھڑپ سے متعلق سرکاری طور پر اب تک کوئی بیان جاری نہیں کیا، تاہم ایک سینیئر پاکستانی سیکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرجھڑپوں کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب افغان طالبان نے پاکستانی حدود میں چیک پوسٹ قائم کرنے کی کوشش کی۔ پاکستانی اہلکاروں نے طالبان کو منع کیا تو انہوں نے فائرنگ شروع کردی جس پر پاکستانی اہلکاروں کو جوابی کارروائی کرنا پڑی۔ دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں لکھا ہے کہ ’قندھار کے علاقے سپن بولدک میں پاکستانی محافظوں کے ساتھ فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، دونوں طرف کے حکام کو مطلع کردیا گیا ہے اور صورتحال اب قابو میں ہے۔ ہم اس بات کی مکمل تحقیقات کریں گے کہ ایسا کیوں ہوا۔‘
چمن میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ جھڑپ کا آغاز جمعرات کو دوپہر تقریباً 12 بجے پاک افغان سرحد پر واقع مرکزی گزرگاہ باب دوستی سے تقریباً دو کلومیٹر دور مشرق کی جانب کلی شیخ لعل محمد سے ہوا۔ اس کے بعد کشیدگی باب دوستی اور آٹھ سے دس کلومیٹر کے علاقے میں قائم چیک پوسٹوں تک پھیل گئی۔اس دوران کلی گہوری کہول، کلی اڈہ کہول، کلی باچا اور ملحقہ علاقوں میں سرحد پر دونوں جانب قائم چیک پوسٹوں پر تعینات پاکستانی اور افغان سرحدی محافظوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ شروع کردی۔مقامی افراد کے مطابق جھڑپوں کے دوران دونوں جانب سے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ توپوں سے بھی گولے داغے گئے۔ اس دوران متعدد راکٹ گولے چمن شہر کے مختلف علاقوں میں خالی میدانوں میں لگے تاہم اس سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ چمن کے علاقے کلی باچا کے رہائشی جانان اچکزئی نے بتایا کہ کشیدہ صورت حال میں سرحد کے قریب رہنے والے شہری شدید خوفزدہ ہیں اور درجنوں لوگ گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر بھی منتقل ہوگئے ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular