
تہران : ایرانی سرحدی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپوں میں تین افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔ ایران اور افغانستان کے درمیان پانی کے حقوق پر بڑھتی ہوئی کشیدگی جھڑپ میں تبدیل ہوگئی۔ ایرانی قومی پولیس فورس کے نائب سربراہ قاسم رضاعی نے بتایا کہ جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں سرحدی چوکی پرطالبان نے بلا اشتعال حملہ کیا۔ طالبان نے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا، فائرنگ کے تبادلے میں دو سرحدی محافظ شہید اور دو شہری زخمی ہو گئے۔ ایرانی فورسز نے اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا۔ رضاعی نے کہا کہ طالبان کی طرف سے فائرنگ بین الاقوامی قوانین اور اچھی ہمسائیگی کے اصول کی پاسداری کے بر خلاف ہے۔انہوں نے کہا پہلے مرحلے پر ایرانی سرحدی محافظوں نے دوسری فورسز کو ضروری انتباہ جاری کیا لیکن بدقسمتی سے دوبارہ فائرنگ شروع کر دی گئی۔ صوبہ بلوچستان میں ایرانی بارڈر گارڈ کمانڈ سنصٹر نے کہا ہے کہ سرحدی محافظوں نے بھاری گولہ باری سے طالبان کو بھاری نقصان پہنچایا۔ زرنج شہر کو بھاری ہتھیاروں اور میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ایک رکن نے کشیدگی کے آغاز کا ذمہ دار طالبان کو ٹھہرایا۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے جس دن سے طالبان نے اقتدار سنبھالا ہے ہم نے کچھ غیر معقول کارروائیاں اور سرحدی کشیدگی دیکھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ زیادہ تر افغان سرحدی محافظوں اور سرحدی علاقوں میں تعینات طالبان کی افواج کو سرحدی قوانین اور پروٹوکول کا علم نہیں ہوتا ہے۔ افغانستان کے حکمران دو طرفہ معاہدوں کے باوجود من مانا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالنافع تکور کا کہنا ہے کہ صوبہ نمروز میں ایرانی سرحدی فورسز نے افغانستان کی طرف فائرنگ کی جس کا جوابی ردعمل دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حالات اب قابو میں ہیں۔ طالبان حکومت اپنے پڑوسیوں کے ساتھ لڑنا نہیں چاہتی۔


































