
اسلام آباد: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سیاسی بحران پر اظہار تشویش کرتے ہوئے سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی مخالفت کردی۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سربراہ حنا جیلانی نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ جب کسی شہری کا مقدمہ سول عدالتوں میں چلایا جا سکتا ہے تو پھر اس بات کا کوئی جواز نہیں ہے کہ اسے فوجی عدالتوں میں چلایا جائے۔ حنا جیلانی نے مزید کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق 33 سویلینز کو فوجی حراست میں دیا گیا ہے تاکہ ان کا مقدمہ آرمی ایکٹ کےتحت چلایا جائے۔ فوجی حراست میں دئے گئے افراد کو واپس سول حراست میں دیا جائے۔ حنا جیلانی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان تمام افراد کے بارے میں معلومات عام کریں جن کو نو مئی کے واقعات کے بعد حراست میں لیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا جائے کہ انہیں کن الزمات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان واقعات کے ردِعمل میں حکومتی اقدامات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کئی بے گناہ لوگوں کو صرف پی ٹی آئی سے وابستگی کی بنا پر اُٹھا لیا گیا ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔ حنا جیلانی نے سیاسی بحران پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ نو اور 10 مئی کے واقعات نے صورتِ حال کو مزید تشویش ناک بنا د یا ہے جس سے سب سے زیادہ نقصان سویلین بالادستی کا ہوتا نظر آ رہا ہے۔ حکومت سول بالادستی کو محفوظ کرنے میں مایوس کن حد تک ناکام ہو ئی ہے۔ حنا جیلانی نے کہا کہ جماعت کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے کسی کو حراست میں لینا اور اس کے خلاف کسی قسم کا مقدمہ قائم کر کے اچھی مثال قائم نہیں کی جا رہی۔ ایچ آر سی پی نے تمام سیاسی فریقوں کو خبر دار کیا کہ پاکستانی عوام جس جمہوریت کے خواہاں ہیں وہ وفاداریوں کی تبدیلی کی بنیاد پر استوار نہیں ہو سکتی۔


































