
قاہرہ : مصر میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہوگئے۔ مذاکرات کیلئے حماس، قطر اور امریکا کے وفود قاہرہ پہنچ گئے ہیں جبکہ اسرائیلی وفد اتوار کی صبح تک نہیں پہنچا تھا۔ اے ایف پی نیوز ایجنسی کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ مذاکرات کے لیے وفد صرف اسی صورت میں قاہرہ جائے گا جب یرغمالیوں کے معاہدے کے فریم ورک پر "مثبت پیش رفت” نظر آئے۔
ادھر حماس بھی اپنے بنیادی مطالبات سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہے۔ حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے ایسے معاہدے پر کسی بھی صورت میں راضی نہیں ہوں گے جس میں واضح طور پر جنگ کا خاتمہ شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت ایسا معاہدہ چاہتی ہے جس کے تحت جارحیت روکے بغیر یرغمالی رہا ہوجائیں۔ معاہدے میں امریکا کو رفح پر حملہ نہ ہونے کی ضمانت بھی دینا ہوگی۔ جبکہ اسرائیلی حکام کا اصرار ہے کہ رفح پر حملہ ضرور کیا جائے گا چاہے جنگ بندی کا معاہدہ طے پاجائے۔


































