Fri Oct 16, 2026

ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف

روزانہ کی خبریں

افغانستان میں برطانوی فوجیوں کو قتل عام کی کھلی اجازت تھی، سابق افسر کا انکشاف

لندن : برطانیہ میں اسپیشل فورسز کے ایک سابق سینئر فوجی افسر نے دوران تفتیش بتایا کہ اسپیشل ائر سروس کے پاس گولڈن پاس تھا جس کی وجہ سے انہیں قتل کے بعد فرار کی اجازت تھی۔ یہ الزام افغانستان انکوائری نے گذشتہ روز شائع کیا ہے جس میں برطانیہ کی خصوصی افواج کے ارکان کے ساتھ سات بند کمرہ سماعتوں کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ نیوی کی خصوصی فورسز کی اسپیشل بوٹ سروس کے سابق آپریشن چیف آف اسٹاف ان افسران میں سے ایک ہیں جنہوں نے دو ہزار گیارہ میں خدشات کا اظہار کیا تھاکہ درج کروائے تھے کہ ایس اے ایس پھانسیاں دے رہا ہے اور انہیں چھپا رہا ہے۔ افسر نے اس وقت ایک ای میل میں لکھا تھا کہ ایس اے ایس اور قتل لازم و ملزوم تھے اور انہوں نے آپریشنل ہلاکتوں پر رجمنٹ کی سرکاری وضاحت کو انتہائی ناقابل یقین قرار دیا۔ افسر نے انکوائری میں یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ اپنے دعوے پر قائم ہے کہ ایس اے ایس کے اقدامات قتل کے مترادف ہیں، افسر نے اثبات میں جواب دیا۔

مزید پڑھیے

Most Popular