
کابل : لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے معاملے پر طالبان کی اعلیٰ قیادت میں اختلافات سامنے آگئے۔ طالبان کے اہم ترین رہنما اور وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے اعلان کیا ہے کہ چھٹی جماعت سے اوپر کی لڑکیوں کی تعلیم معطل کرنے کافیصلہ عارضی ہے اور یہ پابندی مستقل نہیں ہے۔ علما کے وفد سے ملاقات میں سراج الدین حقانی نے کہا تحریک اس بات پریقین رکھتی ہےکہ اسلام نے مردوں اور خواتین دونوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا لازم قرار دیا ہے۔ طالبان تعلیم کے تحفظ سمیت افغان عوام کے تمام جائز حقوق کے لیے پرعزم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حقانی نے کچھ عرصے پہلے واضح کیا تھا کہ اگر مارچ 2023 میں اگلے تعلیمی سال کے آغاز میں تعلیم کی واپسی۔ وزارتی، عسکری تقرریوں اور برطرفیوں میں ہیبت اللہ اخونزادہ کی مداخلت روکنے کے معاملے پر کوئی فیصلہ جاری نہ کیا گیا اور حکومت کے لیے شوریٰ کونسل کی تشکیل نہ دی گئی تو پھر میں قندھار میں طالبان سربراہ اور اپنے قریبی رہنماؤں پر کھلے عام تنقید کرنے سے دریغ نہیں کروں گا۔


































