
برسلز : یورپی حکومتوں نے عالمی فوجداری عدالت پر امریکی پابندیوں کو عدالتی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔
یورپی ممالک میں فن لینڈ نے سب سے پہلے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے فیصلے پر گہرا افسوس ہے اور آئی سی سی کو بغیر کسی رکاوٹ کے کام کرنا چاہیے۔ فرانس نے امریکا سے تمام تعزیری اقدامات واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے آئی سی سی، عملے اور حامی تنظیموں کے خلاف دباؤ کی مذمت کی۔ فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ آئی سی سی کے اہلکاروں کو نشانہ بنانا عدالت اور روم سمجھوتے کی توثیق کرنے والے 125 ممالک پر حملے کے مترادف ہے۔
بیلجیم کے وزیرِ خارجہ میکسیم پرووٹ نے کہا کہ یہ پابندیاں عدالتی آزادی اور احتساب کی کوششوں کو کمزور کرتی ہیں۔ ڈنمارک نے بھی فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک آزاد اور غیرجانبدار آئی سی سی کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ اسپین، نیدرلینڈز اور ناروے نے بھی تشویش ظاہر کی اور عالمی فوجداری عدالت کی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کو دہرایا۔


































