
بلوچستان میں کوئٹہ سمیت 12 مختلف مقامات پر فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے بزدلانہ حملے کیے، فورسز نے بروقت کارروائی کرکے تمام حملے ناکام بنا دیئے، 15جوان مادرِ وطن پر قربان ہو گئے، 92 دہشت گرد جہنم واصل کر دیئے گئے، دو روز میں 132 سے زائد دہشت گرد مارے گئے جن میں تین خود کش حملہ آور بھی شامل ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بروقت اور موثر کاروائی کے نتیجے میں یہ تمام حملے ناکام بنا دیئے ہیں، دہشت گردوں کی مزید ہلاکتوں اور نقصانات کی بھی اطلاعات ہیں، تعاقب جاری ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ فتنہ الہندوستان کے انسان نما بھیڑیوں نے گوادر میں خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ مزدور خاندان کے 11 افراد کو بھی شہید کر دیا جن میں 5 مرد، تین خواتین اور تین بچے شامل ہیں، سکیورٹی فورسز کی طرف سے دہشت گردوں کے تعاقب میں آپریشنز اور فضائی نگرانی جاری ہے۔
خیال رہے کہ ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے دوران ہندوستانی میڈیا اور سوشل میڈیا کی فتنہ الہندوستان کی مکمل سپورٹ دونوں کے گٹھ جوڑ کو مزید واضح کرتی ہے۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بی ایل اے سے وابستہ غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کی جانب سے دہشت گردی کی منصوبہ بندی پر مبنی متعدد کارروائیاں کی گئیں، جنہیں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے تمام مقامات پر فوری اور موثر کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنایا، کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور چند گھنٹوں کے اندر صورتحال پر مکمل طور پر قابو پالیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملے فتنہ الہندوستان نامی نیٹ ورک نے کیے، جو بی ایل اے کا غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد دھڑا ہے تاہم فتنہ الہندوستان سے منسلک پروپیگنڈا نیٹ ورکس اور بھارتی میڈیا کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کے برعکس یہ حملے کسی قسم کاموثر نتیجہ حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے، فورسز نے دہشت گردوں کا ہر ہدف مکمل ناکام بنا دیا۔کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ میں دہشت گردوں نے پولیس وین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، پولیس اہلکاروں نے فوری جوابی فائرنگ کی جبکہ فرنٹیئر کور کے دستوں نے علاقے میں پہنچ کر جوابی کارروائی کی، اس دوران چار دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے اور علاقہ مکمل طور پر کلیئر کر لیا گیا۔نوشکی میں دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی کوشش کی، تاہم چوکس اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو بغیر کسی نقصان کے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔دالبندین میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی کوشش کے دوران کم از کم دو دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کی، کلیئرنس آپریشن کے دوران صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں رہی۔گوادر اور پسنی میں مسلح حملے میں 18 افراد جان بحق اور 14 زخمی ہوگئے،مسلح افراد نے علی الصبع پسنی میں میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کے بیس پر خود کش حملہ کردیا،جھڑپ میں خاتون حملہ آور سمیت 5 دوسرے حملہ آور مارے گئے، ایم ایس اے کا ایک اہلکار ہلاک،دو زخمی ہوگئے جبکہ گوادر کے عبدالغفور ٹیچنگ اسپتال میں ایک خاتون دو بچے سمیت 11 افراد کی نعش منتقل کردی گئیں تفصیلات کے مطابق ہفتہ کی صبع گوادر اور پسنی میں ہونیوالے حملوں میں ابھی تک 18 افراد کے جان بحق ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہیقلات میں دہشت گردوں نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور پولیس لائنز کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی، جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا، سکیورٹی فورسز نے موثر جواب دیتے ہوئے حملہ آوروں کو بھاری نقصان پہنچایا اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روک دیا۔پسنی میں دہشت گردوں نے پاکستان کوسٹ گارڈز کی تنصیب پر دور سے فائرنگ کی کوشش کی، جبکہ گوادر میں ایک مزدوروں کی کالونی کو نشانہ بنایا گیا، دونوں مقامات پر پولیس اور ایف سی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے


































