
نابلس: مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں نے ترک نژاد امریکی رضاکار عائشہ نور کو قریب سے سر میں گولی ماری۔ نابلس کے گورنر غسان دغلاس نے بتایا ہےکہ ترک نژاد امریکی رضاکار عائشہ نورایزگی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ وہ ایک اسرائیلی اسنائپر کی گولی سر پر لگنے سے شہید ہوئی۔ عائشہ نور کو جمعہ کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ مغربی کنارے میں غیر قانونی یہودی بستیوں کے خلاف مظاہرے میں شریک تھی۔ دغلاس نے بتایا کہ عائشہ نور کا پوسٹ مارٹم نابلس میں واقع النجاہ نیشنل یونیورسٹی کے فرانزک میڈیسن انسٹی ٹیوٹ میں کیا گیا۔
اس سے پہلے فلسطینی حکام نے بھی کہا تھا کہ عائشہ نور کی موت اسرائیلی اسنائپر کی جانب سے جان بوجھ کر نشانہ بنانے سے ہوئی تھی۔ عائشہ کی موت نے غم و غصے کو جنم دیا ہے اور مقامی اور بین الاقوامی برادریوں سے جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکا کے شہر سیئٹل میں سیکڑوں مظاہرین عائشہ نور کی اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں موت کیخلاف احتجاج کیا۔۔ مظاہرین نے اسرائیل کے خلاف اور عائشہ نور کیلئے انصاف کےنعرے لگائے۔


































