
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ سید مجتبیٰ الحسینی خامنہ ای نے شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان کردیا۔ اپنے پہلے پیغام میں کہا کہ دشمن کو ہر ایک شہید کا خون بہانے کا حساب دینا پڑے گا۔ ایران، شہید سپریم لیڈر سے لے کر جارحیت میں شہید بچوں سمیت اپنے تمام شہداء کے خون کا بدلہ لےگا۔ شہدا کے خون کے بدلے کے حق سے دستبردار ہوں گے اور نہ ہی کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کریں گے۔ دشمن نے ہمارے اسکولوں پر حملہ کیا ان کو حساب دینا ہوگا۔
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے بیان میں شہید آیت اللہ خامنہ ای کی راہ اور خط کو جاری رکھنے کا عہد کیا۔ اور عوام، مسلح افواج، انتظامی اداروں، مزاحمتی محاذ اور علاقائی ممالک کے کردار اور ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔
آیت اللہ سید مجتبیٰ الحسینی خامنہ ای نے کہا ہے کہ خطے میں موجود دشمن کے فوجی اڈے ممالک کو کنٹرول کرنے کیلئے بنائے گئے ہیں۔ خطے میں تمام امریکی اڈے فوری بند کئے جائیں ورنہ ان پر حملے جاری رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایران ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستی اور بھائی چارے پر یقین رکھتا ہے، وہ صرف ان کی سرزمین پر امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور بناتا رہے گا۔ انہوں نے دشمنوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے آبنائے ہرمز بند رکھنے کا بھی اعلان کیا۔
ولی امرمسلمین نے اپنے پیغام میں عوام، مسلح افواج، انتظامی اداروں، مزاحمتی محاذ اور علاقائی ممالک کے کردار اور ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی اور انہیں قوم کے دشمنوں کے خلاف مؤثر دفاع کے لیے ضروری قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ مشکل ترین وقت میں ایرانی فورسز نے دشمن کو دندان شکن جواب دیا اور انہیں حاوی نہیں ہونے دیا۔ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے عوامی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام ملک کو تقسیم کرنے اور خانہ جنگی کی تمام سازشیں ناکام بنادیں۔ عوام کی حمایت کے بغیر میری یا کسی ادارے کی اہمیت نہیں۔ ایرانی عوام کا اتحاد ہمیشہ قائم رہے گا۔ عوامی یکجہتی کے ساتھ دشمن کو شکست دیں گے۔ بیرونی خطرات کے سامنے اپنے عزم کو برقرار رکھیں گے۔


































