
کراچی : پاکستان کے شہر کراچی میں پولیس ہیڈ آفس پر حملے میں تین اہلکاروں سمیت چار افراد شہید اور اٹھارہ زخمی ہوگئے۔ کراچی میں شارع فیصل پر پولیس ہیڈ آفس پر دہشت گردوں نےحملہ کردیا۔ پولیس یونیفارم پہنے دہشت گرد دو گاڑیوں میں پہنچے اور عمارت کےعقبی دروازے سے اندر داخل ہوگئے۔ حملہ آوروں نے چھت پر پہنچ کر پوزیشن لے لیں۔ اطلاع ملتے ہی رینجرز اور فوجی اہلکار بھی پہنچ گئے اور آپریشن میں حصہ لیا۔ دوطرفہ فائرنگ میں ایک رینجرز اور دو پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد شہید جبکہ 6 رینجرز اہلکاروں سمیت 18 زخمی ہوگئے۔ فائرنگ کے تبادلےمیں تین دہشت گرد مارے گئے جبکہ ایک دہشت گرد نےخود کو اڑا لیا۔ چار گھنٹے کے آپریشن کے بعد عمارت کو کلیر کرالیا گیا۔ دہشت گردوں کے جسم پر بندھی دو خودکش جیکٹس، 8 دستی بم اورتین گرنیڈ لانچر ناکارہ حالت میں ملے۔ ایک کا تعلق شمالی وزیرستان دوسرے کا لکی مروت سے تھا کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی۔ ایک دہشت گرد کی شناخت زالا نور ولد وزیرحسن کے نام سے کی گئی جس کا تعلق شمالی وزیرستان سے تھا۔ خود کو دھماکے سے اڑانے والے دہشت گرد کا نام کفایت اللہ ولد میرز علی خان تھا اور وہ وانڈہ امیر لکی مروت کا رہنے والا تھا۔ پولیس نے بھینس کالونی سے کار کے مالک محمد کامران کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔ کار مالک کا کہنا ہے کہ اُس نے گاڑی شوروم پر فروخت کردی تھی۔


































