
تل ابیب : اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینیوں کی شہریت ختم کرنے کا نسل پرستانہ قانون منظور کرلیا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ نے دس کے مقابلے میں 94 ووٹوں سے نسل پرستانہ قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت ایسے افراد کی شہریت یا رہائشی حیثیت ختم کردی جائے گی جو فلسطینی اراضی پر قبضے کے خلاف سرگرم ہیں۔ انہیں مقبوضہ مغربی کنارے یا غزہ کی پٹی میں جلاوطن کیا جاسکتا ہے۔ قانون کے تحت قید کی سزا پانے والوں اور فلسطینی اتھارٹی سے فنڈنگ حاصل کرنے والوں کی شہریت یا رہائش منسوخ کی جا سکتی ہے اور انہیں ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔ قانون کا اطلاق اسرائیل کے فلسطینی شہریوں اور مقبوضہ مشرقی القدس کے مستقل رہائشیوں پر ہوگا۔


































