
کابل : طالبان مخالف مرحوم رہنما کمانڈر احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے کی زیر قیادت افغانستان کی نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے3 شمالی اضلاع طالبان سے واپس لیتے ہوئے اس پر قبضہ حاصل کرلیا ہے۔ احمد مسعود کی زیر قیادت این آر ایف کا کہنا ہے کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے وادی پنج شیر میں پہلا حملہ کیا تھا۔ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے خلاف این آر ایف فورسز نے آخری کارروائی گزشتہ سال کی تھی، یہ کارروائی ستمبر میں امریکی حمایت یافتہ حکومتی فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے کے چند ہفتوں بعد کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ این آر ایف نے ان اضلاع میں مرکزی سڑکوں، چوکیوں اور دیہات پر قبضہ کرنے کے بعد ضلعی دفاتر میں طالبان کا محاصرہ کیا۔ متعدد طالبان جنگجوؤں سے اس وقت ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا گیا تھا، دشمنوں کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ ملک کے 12 صوبوں میں حملے جاری ہیں اور وہاں ان کی فورسز موجود ہیں، زیادہ تر فورس شمال میں موجود ہے۔ طالبان کی حکومت نے این آر ایف کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ پنج شیر یا ملک کے کسی اور حصے میں کوئی فوجی حادثہ نہیں ہوا۔


































