
دہلی : بھارت کی ہندو انتہا پسند حکومت نے مسلم دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مدارس اور اقلیتوں کے تعلیمی بجٹ میں ڈیڑھ سو کروڑ روپے کی بڑی کمی کردی۔ مدارس اور اقلیتوں کے لئے دوہزار بائیس تئیس کے بجٹ میں 160 کروڑ روپے رکھے گئے تھے۔ جو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صرف دس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ بچوں کے حقوق کی این جی اونے کہا ہے کہ اقلیتوں کیلئے پری میٹرک اسکالرشپ میں 69.61 فیصد کی بڑی کمی کی گئی جس سے اقلیتی برادریوں کے بچوں کی تعلیم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ 2014 سے اقلیتی امور کی وزارت کے لیے مختص بجٹ میں مسلسل کمی کی جارہی ہے۔ حکومت نے پچھلے سال کے آخر میں مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ کو بند کردیا تھا جبکہ پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کو کلاس 9 اور 10 کے طلبہ تک محدود کردیا تھا۔ نریندر مودی حکومت کے فیصلے نے اقلیتی برادریوں کے طلباء، محققین اور ماہرین تعلیم میں تشویش کی لہردوڑا دی ہے۔


































