
نیویارک : عالمی خوراک پروگرام نے آئندہ ماہ سے دو لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کی غذائی امداد روکنے کا اعلان کردیا۔ اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے کنٹری ڈائریکٹر سمیرعبدالجابر نے بتایا کہ فنڈز کی شدید قلت کے پیش نظر ادارہ اپنے محدود وسائل کو بڑھانے کے لیے تکلیف دہ انتخاب کرنے پر مجبور ہے۔ انھوں نے کہا کہ جون سے دو لاکھ سے زیادہ افراد کی امداد معطل کرنا پڑے گی۔ یہ تعداد اس کے زیر کفالت افراد کا 60 فی صد ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ خاندان غزہ اور مغربی کنارے میں ہیں، جہاں غذائی عدم تحفظ اورغُربت سب سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ غریب فلسطینیوں کو 10.30 ڈالر فی کس کے حساب سے ماہانہ واؤچر اور خوراک کی ٹوکریاں دونوں پیش کرتا ہے۔اب اس کی جانب سےامداد کی معطلی سے دونوں پروگرام متاثر ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ اگر فنڈز موصول نہیں ہوتے تو عالمی خوراک پروگرام اگست تک خوراک اور نقد امداد کو مکمل طور پر معطل کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔


































