بلد چھاؤنی پر عراقی فوج رہ گئی،امریکا کوچھاؤنی پر ایف 16طیارو ں کی ٹیکنالوجی حشد الشعبی کے ہاتھ لگنے کا خوف، امریکا نے عراق کو اسلحہ کی برآمد بھی روک دی
پیٹریاٹ میزائل لگانے کیلئے عراقیوں کی اجازت چاہئے، امریکی وزیر دفاع کی بے بسی،امریکا نے ایرانی میزائل حملے میں اپنے زخمی فوجیوں کی تعداد 64 تک بڑھادیں
بغداد(نیوز ڈیسک) امریکی فوج نے عراق کی بلد چھاؤنی خالی کردی، جبکہ ایرانی میزائل حملے میں اپنے کسی فوجی کو نقصان نہ پہنچنے کا دعویٰ کرنے والے امریکی حکام نے زخمی فوجیوں کی تعداد 64تک بڑھادی ہے،ایف 16 جنگی طیاروں تک حشد الشعبی کی رسائی کے خوف نے امریکی حکام کی نیندیں اڑادی ہیں، امریکا نے عراق کو اسلحہ کی برآمد بھی روک دی ہے،امریکی جریدے فارین پالیسی نے رپورٹ دی ہے کہ امریکی فوجیو ں نے ایرانی میزائل حملے کے خوف سے بلد چھاؤنی خالی کردی ہے اور وہاں صرف عراقی فوج رہ گئی ہے،امریکی حکام کو چھاؤنی پر عراقی فورسز کی زیرنگرانی ایف 16طیارو ں کی ٹیکنالوجی حشد الشعبی کے ہاتھ لگنے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے، چھاؤنی پر 34ایف سولہ طیارے موجود ہیں لیکن ان کی نگرانی امریکی نہیں عراقی فوجیوں کے پاس ہے، پینٹاگون کے پاس کوئی ذریعہ نہیں جس سے تصدیق کی جاسکے کہ ٹیکنالوجی کی معلومات جمع کرنے کا کام کس سطح پر ہورہا ہے،ادھر امریکا نے عراق کو اسلحہ کی فراہمی روک دی ہے، وزیر دفاع مارک ایسپر نے بتایا کہ وہ مستقبل میں ایرانی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے عراق میں پیٹریاٹ میزائل لگانے کے خواہاں ہیں لیکن اس کیلئے ہمیں عراقیوں کی اجازت کی ضرورت ہے، جو امریکی فوجی انخلا کیلئے پہلے ہی پارلیمنٹ میں ووٹ دے چکے ہیں،دوسری جانب ایرانی میزائل حملے میں اپنے کسی فوجی کو نقصان نہ پہنچنے کا دعویٰ کرنے والے امریکی حکام روزانہ زخمی فوجیوں کی تعداد بڑھاتے جارہے ہیں،پہلے زخمی فوجیوں کی تعداد11بتائی پھر اسے 34اس کے بعد 50کیا گیا اور اب نئے اعتراف کے مطابق پینٹاگون نے تسلیم کیاہے کہ عین الاسد چھاؤنی پر ایرانی میزائل حملے میں 64فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئیں،امریکی وزیردفاع مارک ایسپر نے اعتراف کیا ہے کہ زخمی فوجیوں کی تعداد ممکنہ طور پر بڑھ سکتی ہے۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- امریکا نے بلد چھاؤنی خالی کردی،عراق کو اسلحہ سپلائی بھی…
امریکا نے بلد چھاؤنی خالی کردی،عراق کو اسلحہ سپلائی بھی بند
-
Ilyas - فروری 7, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 25
- 0 minute read


































