
تہران : ایران کیخلاف جنگ میں رسوائی کے بعد امریکا کا اتحادیوں کو گھسیٹنے کا منصوبہ بھی ناکام ہوگیا۔ برطانیہ اور فرانس سمیت کوئی اتحادی آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے جہاز بھیجنے پر تیار نہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر اتحادی ممالک نے مدد نہ کی تو نیٹو کا مستقبل بہت برا ہوگا۔ پاسداران انقلاب نے امریکی صدر کو اپنی بحریہ خلیج فارس میں بھیجنے کا چیلنج دے دیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے دعوی کیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے متعلق سات ممالک سے بات چیت کررہے ہیں ۔ جو ممالک آبنائے ہرمز کے راستے تیل حاصل کرتے ہیں انہیں اس کی حفاظت کیلئے آگے آنا چاہئے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہےکہ اگر اتحادی ممالک نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ کی تو نیٹو کا مستقبل بہت برا ہوگا۔
ٹرمپ کی کھلی دھمکی کے باوجود امریکا کے سب سے بڑے اتحادی برطانیہ کے وزیراعظم سرکیئر اسٹارمر نےکہا کہ ان کا ملک کسی جنگ میں نہیں پڑنا چاہتا۔ اسرائیل کے سرپرست جرمنی کے وزیرخارجہ نے کہا کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھلا رکھنے کی کسی کوشش کا حصہ بنے گا۔ آسٹریلیا کی وزیر ٹرانسپورٹ کیتھرین کنگ نے ایک بیان میں کہا کہ اُن کا ملک آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جنگی جہاز نہیں بھیجے گا۔ جاپانی وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ایران کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہم میری ٹائم سکیورٹی آپریشن شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بحران کا حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ سفارتکاری کے ذریعے ممکن ہے۔ اٹلی بحیرہ احمر میں کسی دفاعی مشن کو آبنائے ہرمز تک توسیع نہیں دے گا۔ یونانی حکومت کے ترجمان پاولوس ماریناکیس نے بھی واضح کیا ہے کہ یونان آبنائے ہرمز میں کسی فوجی آپریشن میں حصہ نہیں لے گا اور عسکری کارروائیوں سے دور رہے گا۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان پاسداران انقلاب جنرل علی محمد نائینی نے آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیلوں پر امریکی صدر ٹرمپ کا مذاق اڑایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھاکہ ایرانی بحریہ تباہ کر دی ہے اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہمت کریں اور خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں۔


































