
واشنگٹن: امریکا نے غزہ کو خالی کرانے کا منصوبہ ترک نہیں کیا۔ وزیر خاجہ مارکو روبیو نے کہا ہے امریکا نے کئی ملکوں سے رابطہ کیا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر فلسطینیوں کو اپنے ہاں بسانا قبول کر لیں۔ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ یہ فلسطینیوں کی جبری وطن بدری نہیں ہو گی۔ کیونکہ اگر کوئی ملک انہیں لینا چاہتا ہے اور کوئی فلسطینی چاہتا ہے کہ وہ اپنے بچوں یا اپنے علاج کے لیے دوسرے ملک چلا جائے یا اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے کسی ایسی جگہ جاتا ہے جہاں اسکول موجود ہوں تو اس میں کیا حرج ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو رضاکارانہ اور اپنی مرضی سے کہیں جانے والی بات ہوگی ۔ کوئی ملک انہیں خاص مدت کے لیے قبول کر لیتا ہے تو اس میں کیا قباحت ہو گی۔ ڈیموکریٹک سینیٹر جیف مرکلی نے استفسار کیا کہ اگر صاف پانی اور خوراک نہیں ہے اور آپ کے چاروں طرف بمباری ہو رہی ہے، تو کیا یہ واقعی رضاکارانہ فیصلہ ہے؟۔ روبیو نے یہ نہیں بتایا کہ کن ممالک سے رابطہ کیا گیا ہے لیکن اس سے انکار کیا کہ لیبیا ان میں شامل ہے۔


































