Fri Oct 16, 2026

ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف

روزانہ کی خبریں

ایران کیساتھ معاہدے: امریکا کا ایک بار پھر پاکستان پر پابندیاں عائد کرنے کا اشارہ

واشنگٹن: ایران کے ساتھ نئے معاہدے کرنے پر امریکا نے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر پابندیاں عائد کرنے کا اشارہ دے دیا۔ واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران امریکی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے ایران کے ساتھ کاروباری معاہدوں کو بڑھاوا دینے والوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک ایران نئے معاہدوں میں اگر پیش رفت ہوئی تو پابندیاں لگ سکتی ہیں۔
ویدانت پٹیل نے کہا کہ معاہدے کے ذمہ داروں کو پابندیوں کے خطرے سے آگاہ رہنا چاہیے، پاکستان ایران کے ساتھ تعلقات اپنی خارجہ پالیسی کے تحت دیکھے، زیادہ تباہی والے جنگی ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور روک تھام کیلئے سپلائرز کو پابندیوں کا سامنا ہے۔
گزشتہ روز ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر غور کرنے والوں کو پابندیوں کے ممکنہ خطرے سے آگاہ رہنے کا مشورہ دیتے ہیں، امریکا ممکنہ پابندیوں کا جائزہ نہیں لے رہا۔ میتھیو ملر کا مزید کہنا تھا کہ امریکا پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈیوں اور اس کے بڑے سرمایہ کاروں میں سے ایک ہے، اپنی شراکت داری کو جاری رکھنے کے منتظر ہیں، پاکستان کی اقتصادی کامیابی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular