
تہران : ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران اور مسقط آبنائے ہرمز میں ایک نئی تجارتی بحری راہداری کے قیام سے متعلق معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں، جبکہ مجوزہ راستے کے جغرافیائی نقاط (کوآرڈینیٹس) پر بھی اتفاق ہو چکا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو میں اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان گزشتہ دو ماہ سے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ راستہ قائم کرنے کے طریقہ کار پر مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور دونوں ممالک مجوزہ بحری راہداری کے جغرافیائی حدود و نقاط پر باہمی مفاہمت تک پہنچ چکے ہیں۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ اگر بعض تیسرے فریق اس عمل میں رکاوٹ نہ ڈالیں تو دونوں ممالک مشترکہ اعلامیے کے مسودے کا جائزہ لینے اور اسے حتمی شکل دینے کے آخری مرحلے میں بھی داخل ہوچکے ہیں، جس میں اتفاقِ رائے کے اہم نکات شامل ہوں گے۔ ترجمان کے مطابق مذاکرات میں مجوزہ بحری راہداری کے تکنیکی، قانونی، سکیورٹی اور ماحولیاتی پہلوؤں پر بھی متعلقہ ایرانی اداروں سے مشاورت کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اسماعیل بقائی نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ عمان کے ساتھ دوطرفہ معاہدہ خودبخود آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کا سبب بن جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس آبی گزرگاہ پر پابندیاں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی جارحیت سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات کے باعث عائد کی گئی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمان کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو اس بات کی علامت نہیں سمجھا جا سکتا کہ آبنائے ہرمز اب جہازوں کی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق خطے میں عدم تحفظ کی بنیادی وجوہات امریکی بحریہ کی موجودگی، ایرانی بندرگاہوں کا غیرقانونی بحری محاصرہ اور ایران اور اس کے مفادات کے خلاف دیگر معاندانہ اقدامات ہیں۔


































