
نیویارک : اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے وینیزویلا میں فوجی کارروائی پر کہا ہے کہ اس عمل کے خطے پر تشویشناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انتونیو گوتریس نے کہا کہ یہ پیش رفت ایک خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے۔ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کا احترام نہیں کیا گیا۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی یونین بارہا واضح کر چکا ہے کہ مادورو کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ تاہم انھوں نے تحمل‘ اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی اپیل کی۔ یہاں برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹامر نے کہاہے کہ برطانیہ نکولس مادورو کو غیرقانونی صدر سمجھتا ہے اور محفوظ اور پُرامن سیاسی منتقلی کے لیے امریکی حکام سے رابطے میں رہے گا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے مادورو کے دو ہزار چوبیس کے الیکشن کے مخالف امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز کو صدر قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک ’پرامن اور جمہوری‘ انتقالِ اقتدار کی نگرانی کریں۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ مادورو اپنے ملک کو تباہی کی طرف لے گئے۔
ادھر چین۔ روس ۔ ایران ۔ کولمبیا سمیت کئی ممالک نے امریکی اقدام کی کھل کر مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ کولمبیا نے روس اور چین کی حمایت سے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔


































