
ابوظہبی : متحدہ عرب امارات میں دو سال سے پھنسے 24 سو افغان تارکین قیدیوں جیسی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ کابل پر طالبان کےقبضے کے بعد خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں افغانوں کو ابوظہبی منتقل کیا گیا تھا۔ دس ہزار سے زائد افراد کو امریکا، کینیڈا اور دیگر جگہوں پر دو بارہ آباد کیا جاچکا ہے۔تاہم 24 سو افغان اب بھی ابوظہبی میں ہی پھنسے ہوئے ہیں۔ جنہیں ایمریٹس ہیومینٹیرین سٹی اور تسمیم ورکرز سٹی کے نام سے اپارٹمنٹ کمپلیکس میں رکھا گیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی نامساعد حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور ان کی دوبارہ آبادکاری کی کوئی امید نہیں ہے۔یہاں مقیم افغانوں نے اپنی اقامت گاہ کو جیل کے مترادف قراردیا۔حکام نے حالات خراب ہونے کی تردید کی اور کہا کہ آباد کاری کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ ہیومین رائٹس واچ نے ابوظہبی سے مطالبہ کیا کہ وہ زیر حراست افراد کو رہا کرے اور ان کی حیثیت اور تحفظ کی ضروریات کا تعین کرنے کے لیے منصفانہ اور موثر عمل تک رسائی فراہم کرے۔


































