
اسلام آباد: پاکستان میں شرعی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ کوئی شخص اپنی مرضی سے جنس تبدیل نہیں کرسکتا۔ وفاقی شرعی عدالت نے خواجہ سرا ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں پرفیصلے میں کہا کہ جنس کا تعلق انسان کی بائیولوجیکل سیکس سے ہوتا ہے۔ نماز، روزہ اور حج سمیت کئی عبادات کا تعلق جنس سے ہے۔ محسوسات کی بنیاد پر انسان کی جنس کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ خواجہ سراؤں کی جنس کا تعین جسمانی اثرات پر غالب ہونے پرکیا جائے گا۔ جس پر مرد کے اثرات غالب ہیں وہ مرد خواجہ سرا تصور ہوگا۔ شریعت کسی کو نامرد ہو کر جنس کی تبدیلی کی اجازت نہیں دیتی۔ وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ شریعت کسی کو نامرد ہو کر جنس تبدیلی کی اجازت نہیں دیتی، جنس وہی رہ سکتی ہے جو پیدائش کے وقت تھی۔


































