
اسلام آباد: پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی خطرناک ہے جس کا فوری اور مستقل حل تلاش کرنا ضروری ہے، سفارت کاری اور مذاکرات ہی مسائل حل کرنے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم اور نائب وزیر اعظم کے مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے رابطے ہوئے، پاکستان کی خطے میں قیام امن کے لیے کوششیں جاری ہیں، سعودی عرب ،مصراور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا، پاکستان خطے میں امن کے لیے متحرک ہے۔
دفتر خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت چین میں ہورہی ہے، پاکستان نے اپنا وفد چین کے شہر ارومچی بھیجا ہے، وفد بھیجنے کا مقصد ہے افغانستان کے اندر سے دہشتگردی بند کی جائے۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں، افغان طالبان کے ساتھ بات چیت جاری ہے، پاکستانی وفد ابھی چین میں بات چیت کے لیے موجود ہے واپس نہیں آیا، پاکستان کھبی بھی مذاکرات سے نہیں بھاگا، افغانستان کے معاملے پر چین کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارت کاری پر ہندوستان کا فیک نیوز کا دھندہ بے نقاب ہو چکا ہے، بھارتی خبروں سے ہوشیار رہیں، ایران امریکا جنگ میں پاکستان کی سفارت کاری پر ہندوستان سے فیک نیوز جاری ہیں، پاکستان کی سفارت کاری پر انڈیا اور بیرون ممالک سے فیک نیوز فیڈ کی جارہی ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ حالیہ 4 ملکی مشاورت میں مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں خطے میں جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے امکانات پر غور کیا گیا، اس تنازع کے باعث نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں انسانی جانوں اور معاشی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جس پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ چین انتہائی اہم پیش رفت ثابت ہوا، جس میں علاقائی امن اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت کے ساتھ پانچ نکاتی امن منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے مشترکہ پانچ نکاتی امن منصوبے میں ہرمز کی گزرگاہ میں جہاز رانی کے تحفظ کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی رہنماؤں سے رابطے کر کے خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید بتایا کہ ایران نے پاکستانی پرچم والے مزید 20 جہازوں کو بحر ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جسے پاکستان نے خوش آئند اقدام اور خطے میں استحکام کے لیے مثبت قدم قرار دیا ہے، اس دوران دنیا کے اہم ممالک نے یروشلم میں اسرائیل کی جانب سے مسلمانوں اور عیسائیوں کی عبادت کی آزادی پر عائد پابندیوں کی سخت مذمت کی ہے۔


































