
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور سابق صوبائی وزیر آغا رضا اور ایم ڈبلیو ایم کوئٹہ کے دیگر عہدیداران نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہوتا تو یہ صورتحال نہ ہوتی۔ کالعدم جماعتوں کے خلاف بھرپور آپریشن ہمارا مطالبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی سطح پر ان کالعدم تنظیموں کی سرپرستی بند کی جائے۔ پشاور اور کوئٹہ میں جن لوگوں کی جانیں گئیں اور جن کو اپاہج بنایا گیا، حکومت ان کا علاج کروائے اور معاوضہ دے۔ حکومت ملزمان کوجلد گرفتار کرکے قرار واقع سزا دے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے خلاف کارروائیاں کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ جب تک آزاد داخلہ اور خارجہ پالیسی نہیں بنائی جاتی، حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔ حملہ آور دھڑلے سے واقع کرکے چلے جاتے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ انکا کہنا تھا کہ سابقہ آئی جی پولیس کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ ہمیں پاکستان اور پاکستان کو ہماری فکر کرنی چاہیئے۔ کوئٹہ میں پہلے دو شیعہ تاجروں کو نشانہ بنایا گیا، پھر ہجوم جمع ہوتے ہی دھماکہ کیا گیا۔ کچھ عرصے کے لئے واقعات کم ہوگئے تھے، مگر ختم نہیں ہوئے۔ واقعات کرنے والے دھڑلے سے ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔ جس سے واضع ہوتا ہے کہ کون ان کی سرپرستی کررہا ہے۔


































