
تہران: ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے صیہونی حکومت کے حالیہ مجرمانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس ظلم پر خاموش نہیں رہیں گے، اور اسلامی جمہوریہ ایران کا قانونی اور فیصلہ کن جواب دشمن کو اس کے احمقانہ اقدام پر پشیمان کر دے گا۔انہوں نے کہا کہ آج ایران عوام کو پہلے سے کہیں زیادہ باہمی اعتماد، اتحاد اور ہمدلی کی ضرورت ہے، اور ان شاء اللہ خدا کے فضل سے یہی جذبہ ہمیں اس مجرمانہ حملے کا سخت اور شجاعانہ جواب دینے کے قابل بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب، قابض اور مجرم صیہونی حکومت نے تہران اور ملک کے دیگر شہروں پر ایک وحشیانہ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں بےگناہ بچوں اور خواتین، متعدد عام شہریوں، فوجی کمانڈروں اور جوہری سائنس دانوں کی شہادت ہوئی۔ یہ درندگی جو بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، اس غیر قانونی حکومت کی مجرمانہ فطرت کو ظاہر کرتی ہے، جس کی بنیاد ہی قبضے، جارحیت اور بچوں کے قتل پر رکھی گئی ہے۔ یہ حملہ اس سچائی کی گواہی ہے جسے اسلامی جمہوریہ ایران برسوں سے دہرا رہا ہے کہ صہیونی حکومت کا وجود ہی ظلم و بربریت سے جڑا ہوا ہے۔ اس جارحیت اور بزدلانہ حملے پر ہم نہ خاموش بیٹھیں گے اور نہ نظر انداز کریں گے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کا قانونی، قاطع اور طاقتور ردعمل، ان شاء اللہ، دشمن کو اس جارحیت پر شدید ندامت میں مبتلا کر دے گا۔ چنانچہ حضرت امام خمینی نے فرمایا تھا کہ اگر کسی سردار کے ہاتھ سے پرچم گر جائے، تو کوئی دوسرا بہادر اسے اٹھا کر میدان میں آئے گا۔ ان کمانڈروں کا راستہ بھی ان کے وفادار اور بہادر ساتھی جاری رکھیں گے۔ صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ عالمی اور علاقائی امن کے لیے سنجیدہ مذاکرات اور اعتماد سازی پر زور دیا ہے، لیکن اب وقت ہے کہ وہ اپنی خودمختاری کے دفاع میں ایک مضبوط، حکیمانہ اور عملی اقدام کرے۔


































