
لکھنؤ : صدر جمعیت علمائے ہند مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ملک میں مسلمانوں کو تعلیمی اور سیاسی طور پر بے وقعت کرنے کے خطرناک منصوبہ کا آغازہوبچکاہے۔جمعیت علمائے ہند کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں مولانا ارشد مدنی نے کہا ہے کہ اقتصادی اور روزگار کے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے مذہبی شدت پسندی کو بڑھاوادیا جارہا ہے۔ مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ بنیادپر عوام کو تقسیم کرنے کا یہ کھیل ملک کو تباہ کردے گا۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے چند برسوں کے دوران ملک کی اقتصادی اور معاشی حالت حددرجہ کمزور ہوئی ہے اور بیروزگاری میں خطرناک حدتک اضافہ ہوچکاہے۔ اس کہ باوجود اقتدار میں بیٹھے لوگ ترقی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں اور اس مہم میں جانبدار میڈیا ان کا کھل کرساتھ دے رہاہے۔ مذہب کا نشہ پلاکر بہت دنوں تک حقیقی مسائل سے گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے آسام، مدھیہ پردیش اور اتراکھنڈ ریاستوں میں مسلمانوں کو بے گھر کرنے کی منصوبہ بندی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔


































