
نیویارک: اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ کی تقریباً سڑسٹھ فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہی ہے۔ بچوں، بزرگوں اور دیگر کمزور طبقات کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت اور اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ غزہ کے چودہ لاکھ افراد غزائی قلت کا شکار ہیں۔ اگرچہ صورتحال میں معمولی بہتری آئی ہے اس کے باوجود دو لاکھ بارہ ہزار افراد اب بھی غذائی بحران کے ہنگامی مرحلے میں موجود ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ایک سال کے دوران تقریباً چوہتر ہزار بچوں کو شدید غذائی قلت کے علاج کی ضرورت ہوگی۔ اسی عرصے میں تقریباً پچیس ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو بھی غذائی معاونت درکار ہوگی۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ میں انسانی بحران بدستور سنگین ہے اور فوری انسانی امداد کی فراہمی ناگزیر ہے۔


































