
لندن : انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نومبر 2025 کے دوران منظور کی گئی ستائیس ویں ترمیم عدلیہ کی آزادی، فیئر ٹرائل کے حق اور قانون کی عملداری پر حملہ ہے۔ ایک بیان میں اس کا کہنا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم سے عدلیہ کی آزادی کمزور ہو گی جبکہ تاحیات استثنیٰ کے ذریعے حکام احتساب سے محفوظ رہیں گے۔
ایمنسٹی نے آئینی ترمیم پر فوری نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ججز کی غیر جانبداری، آزادی اور تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ بغیر کسی مداخلت کے اپنا کام کر سکیں۔ ایمنسٹی کی جانب سے 27 ویں آئینی ترمیم پر اٹھائے گئے اعتراضات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قانون سازی جلد بازی میں کی گئی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا مسودہ 8 نومبر کو کابینہ سے منظوری کے فوراً بعد سینیٹ میں پیش کیا گیا جبکہ اسے 13 نومبر کو قومی اسمبلی نے بھی دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا اور اسی دن صدر نے اس پر دستخط کر دیے۔ ایمنسٹی کا کہنا تھا کہ اس کے لیے سول سوسائٹی سے مشاورت نہیں کی گئی جبکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے اس میں محض معمولی تبدیلیاں کی تھیں۔ ایمنسٹی کے مطابق آئینی ترمیم ایک ایسے وقت میں منظور کی گئی جب دونوں پارلیمانی ایوانوں کے اپوزیشن رہنما نااہل قرار دیے جا چکے تھے۔ اس بیان میں تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان اور مخصوص نشستیں نہ دیے جانے کا بھی ذکر ہے اور کہا گیا ہے کہ پارلیمان میں آئینی ترمیم کو ملنے والی حمایت متنازع ہے۔ ایمنسٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور فلیٹ ایڈمرل کو تاحیات استثنیٰ دی گئی ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق یہ برابری کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عالمی قانون کے مطابق سرکاری اہلکاروں کو استثنیٰ دینے کی اجازت ہے لیکن اس میں حدیں متعین ہیں، خاص کر جنگی جرائم اور بڑی خلاف ورزیوں کی صورت میں۔ اس نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسے اہم عہدوں کے لیے تاحیات اور وسیع استثنیٰ غیر محدود اور من مانے اختیارات کے استعمال اور قانون کی حکمرانی کو نظرانداز کیے جانے کی راہ ہموار کرتی ہے۔


































