
مناما: بحرین اور عرب امارات سمیت 20 ممالک نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کیلئے تعاون پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گذرنے کیلئے ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے مطابق مشترکہ بیان میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک جہاز رانی کے تحفظ کیلئے تعاون کریں گے۔ بیان میں آبنائے ہرمز کی بندش پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے ایران سے فوری طور پر دھمکیاں، بارودی سرنگیں بچھانے اور ڈرون و میزائل حملے روکنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 پر عملدرآمد پر بھی زور دیا۔ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ توانائی کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کے اثرات دنیا بھر، خصوصاً کمزور آبادیوں پر پڑیں گے۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے رکن سعید رحمت زادہ نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گذرنے کی فیس کا بل تیار کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کی کئی اہم بحری گزرگاہوں میں اس نوعیت کی فیس لینا ایک عام عمل ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہےکہ اگر ایران نے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولا تو اس کے پاور پلانٹس پر حملہ کریں گے۔ جبکہ پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہےکہ خطے میں اسرائیل وامریکا کا توانائی اسٹرکچر ملیا میٹ کردیں گے۔


































