Mon Oct 12, 2026

ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس خیبرپختونخوا میں گورنر راج جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور منتخب وزیراعلیٰ کی گرفتاری جمہوریت پر شب خون ہے، علامہ باقر زیدی امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، ایرانی اخبار یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی

روزانہ کی خبریں

یمن پر سعودی جارحیت کے حقائق(1)

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

حجاز کی مقدس سرزمین پر قابض آل سعود نے خادمین الحرمین کے روپ میں ایک غریب عرب ملک یمن کو گذشتہ پانچ سالوں سے جس انداز سے اپنی جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے، اس کی ماضی میں مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔ آل سعود کو ابھی تک مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہوئے، لیکن ظلم و بربریت کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ چند سالوں سے یمن پر ایک غیر مساوی جنگ کے نتیجے میں زمین، فضا اور سمندر سے میزائلوں، گولوں اور بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ ان حملوں میں سب سے زیادہ نقصان کم سن بچوں کا ہو رہا ہے۔ چاہے سمندر سے میزائل داغا جائے یا فضا سے رہائشی گھروں پر بمباری کی جائے، ان گھروں سے بچوں کی چیخیں بلند ہوتی ہیں۔ حملے اور تباہی کے بعد تباہ شدہ ملبے کے نتیجے سے معصوم بچوں کی آہیں اور فریادیں انسانی قلب و روح کو تڑپا کر رکھ دیتی ہیں۔ ملبے کے نیچے دبے متعدد بچے موت کی وادی میں جا رہے ہیں، لیکن انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو گویا سانپ سونگھ گیا ہے۔ آج یمن میں کوئی نوجوان گھر میں نظر نہیں آتا، یا تو بمباری اور حملوں میں مارا جا چکا ہے، یا باپ اور مجاہدین کے ساتھ میدان جنگ میں مصروف جنگ ہے۔ یمن کی گلیوں اور محلوں میں موت رقص کر رہی ہے۔ نہ غذا ہے، نہ میڈیسن، نہ علاج، نہ معالجہ، نہ گیس، نہ بجلی، نہ پانی اوپر سے وباﺅں نے یمنی شہریوں کی زندگی کو اجیرن کر دیا ہے۔
آج کی جدید ٹیکنالوجی اور میڈیا کے دور میں جہاں انسانی حقوق کے بلند بانگ نعرے لگائے جا رہے ہیں، وہاں یمن کے ان مظلوموں کی آواز اور معصوم بچوں کی چیخ و پکار کہیں سنائی نہیں دیتی۔ یمن کی نہتی خواتین اور بچوں کی صدائے استغاثہ یمن کے اندر ہی کیوں دب جاتی ہے۔ مظلوموں کی صدائے احتجاج اور گریہ و آہ زاری میں اقوام متحدہ کہاں غائب ہے۔ امریکہ کے مخالف ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خود ساختہ الزامات پر تو اقوام متحدہ کے اجلاسوں پر اجلاس منعقد ہوتے ہیں، لیکن یمن کا نام آتے ہی اقوام متحدہ خاموش تماشائی بن جاتی ہے۔ چودہ جنوری 2011ءیمن میں ایک داخلی انقلاب شروع ہوا، یمن کے عوام نے علی عبداللہ صالح کی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف علم احتجاج بلند کیا۔ عبداللہ صالح عوامی احتجاج کی اس لہر کے سامنے نہ ٹھہر سکے اور جنوری 2012ءمیں یمن سے فرار کر گئے اور ان کے فرار کے فوراً بعد فروری 2012ءمیں انتخابات منعقد ہوئے اور عبدوبہ منصور یاری صدر منتخب ہوگئے، منصور ہادی نے برطانیہ اور مصر کے اداروں سے تعلیم حاصل کی تھی اور وہ علی عبداللہ کے نائب تھے۔
یمنی عوام کی 60 فیصد آبادی نے انتخابات میں شرکت کی اور منصور ہادی کو صدر منتخب کیا۔ منصور ہادی نے جب زمام حکومت سنبھالی تو یمنی عوام کا اصل مطالبہ جمہوریت اور بدعنوانی کا خاتمہ تھا، لیکن منصور ہادی نے عوام کی رائے پر توجہ دینے کی بجائے غیر جمہوری اور آمرانہ راستے کو اختیار کیا اور اپنی باگ ڈور سعودی عرب کے ہاتھ میں دے دی۔ یمنی عوام کو منصور ہادی کا طرز حکومت پسند نہ آیا اور عوام ایک بار پھر سڑکوں پر آگئے۔ منصور ہادی کے مقابلے میں جس تنظیم نے اعتراضات و مطالبات کا پرچم بلند کیا، وہ عوامی تحریک انصار اللہ تھی۔ عوامی تحریک نے زور پکڑا اور جنوری 2015ءمیں ایوان صدر کا گھیراﺅ کرکے صدر ہاﺅس پر قبضہ کر لیا۔ منصور ہادی صدارت سے استعفیٰ دے کر عدن شہر کی طرف فرار کر گیا۔ کچھ عرصے بعد اس نے اعلان کیا کہ وہ استعفیٰ واپس لے رہا ہے اور یمن کا حقیقی صدر و سربراہ وہ خود ہے۔ منصور ہادی نے عدن شہر کو اپنا عارضی دارالحکومت قرار دے کر اپنے آپ کو یمن کا صدر کہلوانا شروع کر دیا۔
دوسری طرف سعودی عرب جو عرصے سے یمن کی حکومت اور اس کے قدرتی وسائل پر نطریں گاڑھے ہوئے تھا، اس نے موقع سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ کیا۔ سعودی عرب کی خواہش تھی کہ وہ اس افراتفری میں خلیج عدن اور باب المندب پر اپنا تسلط قائم کرکے اپنی دیرینہ خواہش کو پورا کرسکتا ہے۔ آل سعود اور اس کے اتحادی شروع دن سے انصاراللہ کے بارے میں خوش فہمی کا شکار تھے کہ وہ جب چاہیں گے انصاراللہ یعنی حوثیوں کو شکست دے کر اپنے مذموم اہداف حاصل کر لیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے وزیر دفاع نے زمینی حقائق کو نظرانداز کرکے نہایت گستاخانہ انداز میں یمنی علاقے حضر موت اور الممرہ کو سعودی عرب کا باقاعدہ حصہ قرار دینے کا اعلان کر دیا۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے 25 مارچ 2015ءکے دن "طوفان قاطعیت” کے نام سے فوجی آپریشن کا اعلان کرکے یمن پر باقاعدہ جارحیت کا آغاز کر دیا۔ آل سعود نے بظاہر یہ اعلان کیا کہ وہ مفرور اور مستعفی صدر منصور ہادی کی حمایت میں یمن پر حملہ آور ہو رہی ہے۔
منصور ہادی اس وقت سعودی عرب میں پناہ گزین تھا اور سعودی عرب نے یمن کے نہتے شہریوں پر وسیع حملوں کا آغاز کر دیا۔ اب جبکہ اس جارحیت کو چھ سال ہونے کو ہیں، سعودی عرب تمام تر عالمی قوانین کو پامال کرتے ہوئے نہتے یمنی شہریوں پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ عام شہریوں کا قتل عام، انفراسٹرکچر کی تباہی، القاعدہ کی حمایت، سعودی حملوں کا واضح نتیجہ ہے۔ یمن کے تعلیمی ادارے، صحت عامہ کے مراکز سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملوں میں تباہ و برباد ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف سعودی اتحاد کے اس غریب عرب ملک کا اس طرح محاصرہ کر رکھا ہے کہ باہر سے غذا اور روزمرہ کی اشیاءحتی میڈیسن تک اندر لے جانے کی اجازت نہیں۔ انسان دوستانہ امداد کی فراہمی کے راستے کو بھی مسدود کر دیا گیا ہے۔ سعودی اتحاد امریکہ، برطانیہ، فرانس، اسرائیل اور متحدہ عرب سمیت چند دیگر عرب ممالک پر مشتمل ہے اور اس غریب ملک کے خلاف گذشتہ چند سالوں سے حملے پر حملے کر رہا ہے۔
موصولہ رپورٹوں کے مطابق گذشتہ چند برسوں میں حملوں کی وجہ سے یمن میں صورت حال ناگفتہ بہ ہے۔ یمن کی وزارت صحت کے مطابق ہزاروں یمنی شہری ان حملوں کا نشانہ بن کر جاں بحق یا زخمی ہوچکے ہیں۔ زخمیوں کی حالت بھی بدتر ہے۔ شہروں اور دیہاتوں میں وبائی امراض پھیل چکی ہیں۔ لیکن کوئی عالمی ادارہ سعودی اتحاد کی بمباری کو روکنے کے لیے عملی اقدامات نہیں کر رہا، ہر طرف خاموشی کا دور دورہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ یمن میں انسانی المیے کے وقوع پذیر ہونے کا امکان ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی اقوام متحدہ اور بعض انسانی حقوق کی تنظیموں طرف سے ارسال کردہ انسان دوستانہ امداد کو بھی یمنی بندرگاہ تک نہیں پہنچنے دیتے۔ تلاشی سمیت دوسرے بہانوں سے کئی کئی مہینے تک امدادی سامان کو کھلے سمندر میں روک دیا جاتا ہے اور انہیں یمنی بندرگاہوں پر لنگرانداز ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق انسان دوستانہ امداد پر مبنی بحری جہازوں کو باقاعدہ طاقت کے زور پر روک لیا جاتا ہے اور باقاعدہ ڈرایا دھمکایا جاتا ہے، جنگی جرم قرار دیا جاتا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے بیانات میں کئی بار یمن پر سعودی اتحاد کے حملوں کو جارحیت قرار دے کر یمنیوں کی نسل کشی سے تعبیر کیا ہے۔ آپ عالمی اداروں سے مطالبہ کرچکے ہیں کہ سعودی اتحاد کی اس جارحیت کا علمی اداروں میں جائزہ لیا جائے اور عالمی سطح پر اس کی فوری تحقیقات ہونی چاہیئں۔ آپ فرماتے ہیں کہ بچوں کا قتل عام، رہائشی گھروں کی تباہی، انفراسٹریچر کی بربادی اور قدرتی ذخائر کو ملیا میٹ کرنا ایک بہت بڑا گھناﺅنا جرم ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی یمن کی دلیر اور نہتے عوام کی کامیابی کے بارے میں پرامید ہیں اور فرماتے ہیں کہ سعودی عرب کی جارحیت کو شکست ہوگی اور سعودی عرب کی یمن میں ناگ رگڑی جائے گی۔ اس وقت یمن میں غذائی قلت، صحت عامہ کی سہولیات کا فقدان، وبائِی امراض اور دیگر مشکلات نے یمنی عوام بالخصوص کم سن بچوں کو اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے اپنے ایک بیان مین کہا ہے کہ طول تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اس ادارے کے امدادی سامان سے لدے جہاز کو کسی ملک میں لینڈ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس وقت یمن میں بیس لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور ہر لحظے یمنی بچوں کے دما اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے۔ کئی بچے اس وجہ سے موت کے منہ مین جا چکے ہیں اور ہزاروں موت کے دھانے پر کھڑے ہیں۔
یونیسف کے علاقائی ڈائریکٹر خیرت کامالارسی کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک مہینہ میں 70 ہزار یمنی افراد کے وباﺅں میں مبتلا ہونے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے، جن میں سے 60 ہلاک ہوچکے ہیں اور اس وبا کی بدولت اگلے دو ہفتوں میں مرنے والوں کی تعداد 130 تک پہنچ جائے گی۔ یونیسف کے مشرق وسطیٰ کے اس نمائندے نے یمن کے ایک بچے کھچے ہسپتال کا دورہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ میں نے اس ہسپتال میں کئی بچوں کو جان کنی کی حالت میں دیکھا ہے کہ وہ دواﺅں کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کے گھاٹ اتر رہے تھے۔ میں نے ایک نوائیدہ بچے کو اپنی آںکھوں سے دیکھا ہے، جس کا کل وزن ایک کلوگرام سے بھی کم تھا اور وہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ بہت سے بچے پیدائش کے فوراً بعد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ یمن کی یہ جنگ حقیقت میں بچوں کے خلاف جنگ ہے۔ یمن کے غریب عوام عالمی اداروں کی خاموشی کے باوجود سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے گھناﺅنے اور وحشیانہ مظالم کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں اور ذلت کو برداشت کرنے کی بجائے مقابلے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے 26 مارچ 2015ءکے دن امریکی سبز جھنڈی پر یمن کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا۔ سعودی عرب اس جنگ اور حملے کے ذریعے اپنی مرضی کے افراد کو یمن کے اقتدار پر مسلط کرنا چاہتا تھا، لیکن گذشتہ چھ سالوں میں آل سعود کو اس میں بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان چند سالوں میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی وحشیانہ جارحیت کے نتیجے میں عرب دنیا کے غریب ترین ملک یمن میں انسانی المیہ رونما ہوچکا ہے سعودی عرب نے امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کے تعاون و حمایت سے اس جارحیت کا آغاز کیا اور اس کے پیچھے سامراجی اہداف ایک ایک کرکے سامنے آچکے ہیں۔ سعودی عرب اور اسکے اتحادی یہ گمان کر رہے تھے کہ نہایت سرعت سے یمن پر اپنی مرضی کے حاکم مسلط کرکے اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، لیکن یمنی مجاہدین کی قربانی، ایثار، استقامت اور پامردی نے آل سعود اور اس کے اتحادیوں کے خواب کو چکنا چور کر دیا ہے اور اس وقت یمنی عوام کے مخالف یہ ممالک اپنی منزل سے کوسوں دور ایسی دلدل میں پھنس چکے ہیں، جو ان کی پریشانی، پشیمانی اور ندامت کا باعث بن رہا ہے۔
یمن کی رضاکار تنظیم انصاراللہ کے سربراہ عبدالمالک حوثی نے 25 مارچ 2019ءاس جارحیت کے چار سال مکمل ہونے کی مناسبت سے اپنی گفتگو میں کہا تھا کہ اس جنگ کا سناریو تیار کرنے میں سعودی عرب، امریکہ، برطانیہ اور غاصب اسرائیل شریک ہیں، البتہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کے آلہ کار ہیں۔ انصار اللہ تحریک کے سربراہ نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ سعودی اتحاد کو عالمی حمایت حاصل ہے، لیکن یمن کے مجاہدین کی استقامت جارحین کی شکست کا باعث بنی ہے۔ یمن کی رضاکار تنظیم انصار اللہ نے جنگ بندی اور امن کے قیام کی تمام کوششوں کا ساتھ دیا اور سویڈن میں ہونے والے صلح معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لائے۔ انصار اللہ نے امن و صلح کی خاطر باقاعدہ خطرات کو مول لیتے ہوئے الحدیدہ شہر کو مقامی فورسز کے حوالے کر دیا، تاکہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں امن کا عمل آگے بڑھے۔
انصار اللہ اور سعودی عرب کے وفود نے امن پراسس کے لیے 18 دسمبر 2018ءکے دن الحدیدہ شہر میں مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا، لیکن سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے صلح کی اس کوشش کو پروان نہ چڑھنے دیا اور جنگ بندی ک اعلان ہونے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔ سعودی عرب اور اس کے حامیوں نے الحدیدہ میں جنگ بندی پر عمل درآمد نہ کرکے ثابت کر دیا کہ وہ جنگ کے خاتمے پر یقین نہیں رکھتے اور ان کے اہداف اس سے ہٹ کر ہیں۔ یمن کی اعلیٰ سیاسی کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے جارحیت کے چار سال مکمل ہونے پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی اتحاد نے امن و صلح کے تمام راستے بند کرے کا ارادہ کیا تو انہیں سخت ترین صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ یمن نے ابھی سعودی اتحاد کے خلاف خطرناک آپشن کا انتخاب نہیں کہا، تاکہ امن و صلح کے امکانات باقی رہیں۔
یمن کی اعلیٰ سیاسی کونسل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ سویڈن امن معاہدہ سعودی عرب کی بہانہ بازی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے مختلف مسائل و مشکلات کا شکار ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب یمن کی جغرافیائی تقسیم کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ یہ اتحاد جنگ بندی پر یقین نہیں رکھتا اور جنگ کو جاری رکھ کر مذموم مقاصد کے حصول کا خواہاں ہے۔ یمن میں جاری سعودی جارحیت پر عالمی برادری کی خاموشی ایک سانحہ سے کم نہیں اور اس کا یمنی عوام کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ اب جبکہ یہ جنگ ساتویں سال میں داخل ہونے والی ہے، اعداد و شمار کے پتہ چلتا ہے کہ یمن جیسے غریب ملک میں انسانی المیہ رونما ہو رہا ہے۔ یمن کے وزیر تعلیم کے مطابق سعودی اتحاد کے حملوں کے نتیجے میں گذشتہ چند سالوں میں تین ہزار 526 تعلیمی اداروں کو سخت نقصان پہنچا ہے جبکہ 660 تعلیمی ادارے تو مکمل طور پر بند ہوگئے ہیں۔ تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ یمن میں ہسپتالوں، ڈسپنسریوں اور صحت عامہ کے اداروں کو بھی سخت نقصان پہنچا ہے۔
یمن میں اقوا متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2019ءابتدائی دو ماہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد میں وبا اور متعدی امراض کی علامات مشاہدہ کی گئیں ہیں جبکہ اس سے پہلے سینکڑوں افراد مختلف وبائی امراض کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یمن میں گذشتہ برسوں میں دوبار شدید وبائیں پھیل چکی ہیں۔ جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد اس وبائی بیماری کا شکار ہوئے اور ہزاروں لقمہ اجل بن گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یمن کے عوام بیرونی جارحیت کی وجہ سے سخت مشکلات کا شکار ہیں، لیکن یمنی عوام کی استقامت نے دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیے ہیں اور کامیانی و کامرانی یمنی عوام کے ہمراہ ہے۔ یمن کے خلاف اس غیر مساوی جنگ میں ابھی تک انصاراللہ کامیاب و کامران ہے۔ یمنی عوام نے سیاسی، فوجی دونوں میدانوں میں یہ باور کرایا ہے کہ وہ جنگ پسند نہیں، وہ جنگ کے خاتمے پر یقین رکھتے ہیں، لیکن دشمن کی سازشوں کو بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
انصاراللہ نے بھی جنگ بندی کے لیے ہر طرح کی کوششوں کا ساتھ دیا ہے، لیکن میدان جنگ میں بھی ثابت کیا ہے کہ یمن کے بحران کا حل فوجی راستے سے ممکن نہیں۔ یمن پر مسلط اس جنگ میں سعودی اتحاد نے اس غریب و فقیر ملک کے انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ مختلف وبائیں اپنے عروج پر ہیں، بچوں، خواتین اور بوڑھوں کا قتل عام روزمرہ کی بات بن چکا ہے۔ علاج کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں یمنی موت کے گھاٹ میں جا رہے ہیں۔ یمن کی قومی سالویشن پارٹی کے ترجمان حنیف اللہ الشامی کا کہنا ہے کہ یمن میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنا دشمن کی بنیادی اسٹریجی ہے، لیکن یمن کے عوام، فوج، رضاکار تنظیمیں، سکیورٹی کے ادارے اور حکومت سے مربوط مختلف ادارے اس سازش کے مقابلے مین ڈٹے ہوئے ہیں اور دشمن کی شرمناک سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ حنیف اللہ شامی کا مزید کہنا تھا کہ یمن کا ہر شہری ایک مضبوط فوجی ہے اور ملک کے اندر ایسا ماحول تیار ہوگیا ہے کہ خائن اور غدار طاقتیں اور افراد تنہا ہو کر رہ گئے ہیں اور ان کو عوام میں کوئی مقبولیت اور حیثیت حاصل نہیں ہے۔
سعودی اور اس کے اتحادی ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں۔ عالمی طاقتیں یمن کی جغرافیائی پوزیشن سے مسقبل میں فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں۔ یمن کی سمندری حدود تیل کی سپلائی کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں، یمن کا باب المندب نامی آبنائ دنیا میں تیل کی سپلائی اور تجارتی سامان کی نقل و حمل میں کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔ یمن کی اس اسٹریٹجک پوزیشن کی وجہ سے سامراجی طاقتوں اور یمن مخالف ممالک کی پوری کوشش ہے کہ یمن میں بدامنی کا دور دورہ رہے، تاکہ باب المندب اور یمن کی سمندی پوزیشن سے مطلوبہ مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ReplyReply allForward

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular