
خیبر پختونخوا کے دارالخلافہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں کوہاٹ روڈ پر واقع مدرسے میں دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور 90 سے زائد زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت مدرسے میں تدریسی سلسلہ جاری تھا، دھماکے کے نتیجے میں شہید و زخمی ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ پولیس، سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں دھماکے کے مقام پر پہنچ چکی ہیں جو امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ ریسکیو 1122 کے حکام کے مطابق زخمی ہونے والے متعدد بچوں کی حالت تشویشناک ہے۔
پشاور پولیس کے مطابق دھماکا ٹائم بم کے ذریعے کیا گیا جبکہ دھماکا خیز مواد بیگ میں رکھ کر مدرسے لایا گیا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں 4 سے 5 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔ آئی جی خیبر پختونخوا ثناء اللّٰہ عباسی نے دھماکے میں 4 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے متعلق عمومی تھریٹ الرٹ تھا، دھماکے کی نوعیت کے بارے میں ابھی تفتیش جاری ہے۔ ایس ایس پی آپریشنز منصور امان نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ اب تک 7 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشن منصور امان نے بتایا کہ دھماکا پشاور کی دیر کالونی میں واقع ایک مدرسے میں ہوا۔ ریسکیو حکام کے مطابق دھماکا مدرسہ کے مرکزی ہال میں ہوا۔
صدر، وزیرِاعظم، وزرائے اعلیٰ سمیت سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا گیا۔


































