
امریکا میں نفرت انگیز جرائم میں اضافہ،رواں ہفتے نفرت انگیز واقعات میں 18افرادہلاک، کولوراڈوکی سپرمارکیٹ میں فائرنگ سے 10افراد ہلاک
ایشین مساج سینٹرز میں فائرنگ،ایشائی خواتین سمیت8افراد ہلاک، ہمیں اپنے دل بدلنا ہوں گے نفرت کی امریکا میں کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ہوسکتی،بائیڈن
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) سابق صدر ٹرمپ کی نفرت انگیز پالیسیوں کے نتائ ج امریکی شہری بھگتنے لگے ،رواں ہفتے نفرت انگیز واقعات میں 18افراد جان سے گئے ، ریاست کولوراڈوکی بولڈرکاوَنٹی میں ایک سپرمارکیٹ میں فائرنگ سے پولیس افسر سمیت 10افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے فائرنگ کے شبہ میں ایک شخص کو حراست میں لے لیا ہے، مسلح شخص نے گروسری اسٹور میں داخل ہوا اور خریداری میں مصروف افراد پر فائرنگ شروع کر دی،ادھر ریاست جارجیا میں 3مختلف ایشین مساج سینٹرز میں فائرنگ سے 6ایشیائی خواتین سمیت8افراد ہلاک ہو گئے ، پہلا واقعہ ایک ورتھ کے ینگ ایشین مساج پارلر کے باہر پیش آیا، جس میں 4 خواتین ماری گئیں۔ 2 دیگر واقعات اٹلانٹا کے 2 مختلف پارلرز میں پیش آئے حکام نے ان تینوں واقعات میں رابرٹ ارون نامی نوجوان کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے، امریکا میں ایشین امریکن کمیونٹی کو نفرت انگیز جرائم کا سامنا ہے ، ان کے کاروبار کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے ،امریکی صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس نے ایشیائی امریکیوں پر نسل پرستانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں نفرت کیلئے کوئی جگہ نہیں اٹلانٹا کے دورہ کے دوران جوبائیڈن نے کہا کہ ہمیں اپنے دل بدلنا ہوں گے نفرت کی امریکا میں کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ہوسکتی۔ بائیڈن نے تمام امریکیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جب بھی تعصب دیکھیں تو اس کا مقابلہ کریں ، ہماری خاموشی جرم میں شرکت ہے، ہم جرم میں شامل نہیں ہوسکتے۔ صدر نے ایشیائی باشندوں پر فائرنگ کو ملک میں بندوق کے تشدد سے عوامی صحت کے بحران کی ایک مثال قرار دیا


































