
ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس میں چین،فرانس ،روس،برطانیہ اور جرمنی کی شرکت، ایران امریکا بلاواسطہ مذاکرات نہیں ہوئے،روس
اجلاس میں ماہرین کی سطح پر الگ الگ نشستیں جاری رکھنے پر اتفاق ،امریکی پابندیوں کا خاتمہ ایٹمی معاہدے کو بچانے کیلئے پہلا اور ضروری اقدام ہے،ایران
ویانا(نیوز ڈیسک) ویانامیں ایران کے ساتھ بلاواسطہ مذاکرات کا امریکی پروپیگینڈا ناکام ہوگیا، ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس میں صرف ایران اور چارجمع ایک گروپ میں شامل ممالک چین،فرانس ،روس،برطانیہ اور جرمنی کے نمائندے شریک ہوئے، اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب میخائل اولیانوف نے کہا ہے کہ ویانا اجلاس میں ایران اور امریکا کے درمیان بلاواسطہ مذاکرات نہیں ہوئے،ایران نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ ویانا اجلاس میں امریکا شریک نہیں ہوسکتا، اجلاس میں صرف ایران اور چارجمع ایک گروپ کے نمائندے ہی شامل ہوں گے ، اجلاس کے پہلے دور میں ماہرین کی سطح پر الگ الگ نشستیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا، ماہرین کی دو الگ الگ متوازی نشستیں بھی ہوں گی جن میں پابندیوں کے خاتمے اور ایٹمی سرگرمیوں کے تعلق سے فنی معاملات پر بحث ہوگی ، ماہرین کی ان نشستوں کا نتیجہ اور ان کی رپورٹ کمیشن میں پیش کی جائے گی ، اجلاس میں شریک ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے مذاکرات کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن کی اگلی نشست جمعے کو ہوگی،انہوں نے ایک بار پھر ایران کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ امریکی پابندیوں کا خاتمہ ایٹمی معاہدے کو بچانے کیلئے پہلا اور ضروری اقدام ہے ، جیسے ہی پابندیاں ختم ہوں گی ایران ایٹمی معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر پوری طرح سے دوبارہ عمل درآمد شروع کردے گا ، پابندیوں کے خاتمے اور ایٹمی معاہدے کے بارے میں ایران کے اقدامات کے سلسلے میں ماہرین کی سطح پر مذاکرات جاری رہیں گے، انھوں نے کہا کہ ہم یورینیم کی20 فیصد افزودگی روکنے کے بدلے میں ایران کے منجمد اثاثوں میں سے صرف ایک ارب ڈالر ریلیز کرنے کے حوالے سے کسی بھی طرح کی گفتگو کو مسترد کرتے ہیں، ہم ایٹمی معاہدے پر کوئی مذاکرات نہیں کر رہے ہیں تو دیگر موضوعات کے بارے میں مذاکرات کا تو سوال ہی نہیں اٹھتااس سے پہلے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے نے کہاتھا کہ تمام امریکی پابندیوں کا یقینی اور عملی خاتمہ ایٹمی معاہدے کی بحالی کا واحد راستہ ہے،ویانا اجلاس کا اصل ایجنڈہ امریکا کی ظالمانہ پابندیوں کا خاتمہ اور دیگر فریقوں کے معاہدے پر عملدرآمد ہے ، ویانا اجلاس اور مشترکہ کمیشن کے پچھلے اجلاسوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ، ایران اسی وقت ایٹمی معاہدے پر دوبارہ عمل درآمد شروع کرے گا جب امریکا کی طرف سے سبھی پابندیاں اٹھالی جائیں گی ۔


































