
نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے تاریخی فتح حاصل کرنے کے بعد دوسری مدت کے لیے اپنا منصب سنبھال لیا۔ خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جسینڈا آرڈرن اور ان کے وزرا نے ویلنگٹن کے گورنمنٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں انگریزی اور ماؤری زبانوں میں حلف اٹھایا۔
جسینڈا آرڈرن کووڈ-19 سے جنگ میں کامیابی کو اپنی جیت کی وجہ سمجھتی ہیں اور ان کی بائیں بازوں کی لیبر پارٹی کو جنگ عظیم دوم کے بعد اتنی بڑی کامیابی ملی ہے۔ نیوزی لینڈ کے انتخابات کے حتمی نتائج کے مطابق جسینڈا آرڈرن نے 50 فیصد ووٹ حاصل کیے اور 120 نشستوں کے ایوان میں 65 نشستیں حاصل کیں جبکہ ابتدائی نتائج میں 64 نشستیں بتائی گئی تھیں۔ مرکزی اپوزیشن جماعت نیشنل پارٹی کی نشستیں 35 سے کم ہو کر 33 رہ گئی ہیں جس کے بعد ان کی مہم کے سربراہ اور پارٹی کے نائب گیری براؤنلی نے استعفیٰ دے دیا۔ جسینڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ اصلاحات کے لیے ان کے پاس واضح مینڈیٹ ہے تاہم ترجیح کووڈ-19 سے نمٹنا اور وائرس سے متاثرہ معیشت کی بحالی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ جنہوں نے ہمیں منتخب کیا ہے ہم ان سب کی نمائندگی کر رہے ہیں چاہے وہ شہر، مضافات، جنرل یا ماؤری نشستیں ہیں۔ انہوں نے انفرااسٹرکچر اور سرکاری ہاؤسنگ منصوبوں سمیت توانائی، موسمیاتی تبدیلی، غربت اور عدم مساوات جیسے مسائل پر اصلاحات کا اشارہ دیا۔ خیال رہے کہ جسینڈا آرڈرن کی کامیابی پر ویلنگٹن میں وکٹوریہ یونیورسٹی کے سیاسی مبصر برائس ایڈورڈز نے نتائج کو 80 برس کی نیوزی لینڈ کی انتخابی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک تاریخی تبدیلی ہے۔ اپوزیشن کی نیشنل پارٹی کی سربراہ جوڈتھ کولنز نے کہا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کو فون کرکے ‘شاندار نتائج’ پر مبارکباد دی۔ یاد رہے کہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے گزشتہ برس مارچ میں کرائسٹ چرچ کی مساجد میں دہشت گردی کے حملوں کے بعد اپنی بہترین حکمت عملی سے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی تھی۔


































