
ملی یکجہتی کونسل اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیراہتمام رحمت للعالمینۖ وحدت کانفرنس اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی، جس میں ایم ڈبلیو ایم، ملی یکجہتی کونسل، جماعت اسلامی، شیعہ علماء کونسل، پاکستان عوامی تحریک اور مختلف مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں سمیت کثیر تعداد میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وحدت و اخوت کے حوالے سے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ متشدد رویوں اور مذہبی منافرت کی فضا کو ختم کرنے کے لیے ملی یکجہتی کونسل اور علماء کا کردار ہمیشہ جاندار رہا۔ شیعہ سنی اور صوفی و سلفی کے نام پر دنیا میں جو آگ لگائی جا رہی ہے، اس کے لیے ہمیں پیش بندی کی ضرورت ہے۔ وزیر مذہبی امور نے کہا کہ شیعہ سنی اختلافات صدیوں سے موجود ہیں جن کو چھیڑنے کی بجائے مشترکات پر یکجا ہونا ہوگا۔ مذہبی نفاق کی راہ روکنے کی ذمہ داری ریاست کے ساتھ ساتھ علما کی بھی ہے۔ کافرکافر کے جواب میں بھائی بھائی کے موثر بیانیے کی ترویج ہونی چاہیے۔ اسلامو فوبیا کے حوالے سے عالمی فورمز پر وزیراعظم عمران خان کا موقف امت مسلمہ کی ترجمانی کرتا ہے۔ فرانس کے واقعہ پر پوری دنیا میں سے صرف تین اسلامی ممالک ترکی، ایران اور پاکستان نے آواز بلند کی ہے۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے فرانس کے حوالے سے مقررین کے موقف کی تائید اور ملی یکجہتی کونسل کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے اتحاد امت کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارا خطہ تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ دنیا پر لبرل ورلڈ آرڈر کا نظام نافذ ہے۔ طاقت کے توازن کو ایشیاء کی جانب منتقل ہونے سے روکنے کے لیے مغرب ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ افغانستان سمیت دوسرے حصوں میں امریکہ کو ناکامی اٹھانا پڑی۔ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ارض پاک کو فرقہ وارانہ مسائل میں الجھا کر کمزور کرنے کی سازش مل کر ناکام بنائیں گے۔ ہمیں تکفیر و توہین کی راہ روکنے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہماری افواج اس ملک کا مضبوط دفاع ہیں۔ ان پر الزام تراشی دشمنوں کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ وہ سیاسی قوتیں ملک کا دفاع نہیں کرسکتی، جن کے اثاثے اور اولادیں بیرون ممالک میں پروان چڑھ رہی ہیں۔ علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ وطن عزیز سیاسی بحران کا قطعی متحمل نہیں۔ دشمن کے ایجنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اہلسنت ہماری جان ہیں، دکھ سکھ کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔


































